غلط فہمی میں نہ رہیں، کورونا طویل عرصے تک دنیا کے ساتھ رہے گا، ڈبلیو ایچ او

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے بہانے چند ممالک میں جابرانہ اقدامات سے انسانی حقوق کا بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

ادھر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ممالک کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، کورونا طویل عرصے تک دنیا کے ساتھ رہے گا، کئی ممالک کورونا سے نمٹنے کے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، جن ملکوں کا خیال تھا کہ انہوں نے مرض پر قابو پالیا ہے وہاں کورونا دوبارہ سر اُٹھارہا ہے۔

ایک ویڈیو پیغام میں سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ کورونا وباکا فائدہ اٹھا کر انسانی حقوق کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہوگا۔

انتونیو گوتریس کاکہنا تھاکہ کچھ ممالک میں کورونا وائرس نسلی امتیاز، آمریت پسندی، امتیازی سلوک، صنفی تفریق اور کمزور طبقات کو نشانہ بنانے کا بہانہ بن سکتا ہے۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ تمام حکومتیں اس معاملے میں شفاف اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں کیونکہ شہریوں اور صحافت کی آزادی اہم ہے، یہ بات یاد رکھیں کہ خطرہ لوگوں سے نہیں بلکہ وائرس سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک میں شہریوں سے سہولیات کی فراہمی کے دوران امتیازی سلوک برتنےکی شکایات ملی ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وبا کا بحران بدترین انسانی حقوق کی پامالی کے بحران میں تبدیل ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے جس کے باعث بیشتر ممالک نے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے۔

کورونا وائرس کے دوران بھارت میں مسلمانوں سے نفرت آمیز سلوک میں مزید اضافہ ہوا ہے اور وہاں کورونا کے مسلمان مریضوں کو علیحدہ کرنے اور بعض جگہ مسلمان مریضوں کا علاج نہ کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار بنا کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے. مقبوضہ کمشیر میں بھی وبا کے باوجود بھارتی فوج کی جانب سے جعلی آپریشن اور نوجوانوں کو شہید کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو