خام مال کی صورت میں ضرورت سے زیادہ موجود ہونے کے باوجود کورونا کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا برآمد کرنے کی منظوری

دوا برآمد کرنے کی مخالفت کرنے والوں میں اسد عمر، شیخ رشید، شفقت محمود اور شیریں مزاری شامل ہیں،ذرائع

وفاقی کابینہ نے 4 وفاقی وزراء کی مخالفت کے باوجود کورونا کے علاج میں استعمال ہونے والی ملیریا کی دوا کلوروکوئین کو برآمد کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کورونا کی صورتحال کے حوالے سے غور کیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ کو کلوروکوئین کے اسٹاک، استعمال اور برآمد کرنے پر بھی بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اس دوران 4 وزراء نے کلوروکوئین کو برآمد کرنے کی مخالفت بھی کی تاہم وفاقی کابینہ نے ملیریا کی دوا کو برآمد کرنے کی منظوری دے دی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملیریا کی دوا برآمد کرنے کی مخالفت کرنے والے وزراء میں اسد عمر، شیخ رشید، شفقت محمود اور شیریں مزاری شامل ہیں۔

چاروں وزراء کا مؤقف تھا کہ وافر مقدار ہونے کے باوجود ملیریا کی دوا کم پڑ سکتی ہے تاہم وزارت قومی صحت کا مؤقف تھا کہ یہ دوا خام مال کی صورت میں ضرورت سے زیادہ موجود ہے۔

خیال رہے کہ مختلف ممالک کے ماہرین نے ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا کلوروکوئین کو کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے تجویز کیا ہے ۔

‘وزرات تجارت نے 3 اپریل کو کلوروکوئین کی برآمد پر پابندی لگائی تھی’

یاد رہے کہ وزرات تجارت نے 3 اپریل کو انسدادِ ملیریا کی دوا کی برآمد پر پابندی لگائی تھی تاکہ ملک میں دوا کی کمی کا مسئلہ نہ ہو، تاہم پھر 3 دن بعد ہی یہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا تھا۔

ذرائع کے مطابق یہ سب وزارتِ صحت اور وزارتِ تجارت کے درمیان رابطے کے فقدان کے باعث ہوا تھا اور ان دونوں وزارتوں کے قلم دان وزیراعظم کے پاس ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس دوران وزارت صحت کو خیال آیا کہ سمری تو اسے بھجوانی چاہیے اس لیے وزارت تجارت سے کہا گیا کہ آپ پابندی ہٹا دیں باضابطہ طور پر وزارت صحت خود پابندی کی سمری وزیر اعظم کو بھجوائے گی۔

وزارت صحت کے کہنے پر وزارت تجارت نے انسداد ملیریا دوا کی برآمد پر پابندی ہٹائی پھر وزارت صحت کی سمری پر وزیراعظم نے کلوروکوئین کی برآمد پر پابندی کی منظوری دی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو