ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی رپورٹ آگئی، سعودی عرب سرفہرست

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی نئی رپورٹ شائع کر دی.

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سزائے موت میں کمی آنے کے باوجود سعودی عرب نے گذشتہ سال 184 لوگوں کو سزائے موت دی ہے۔

گذشتہ سال عراق میں بھی ہلاکتوں کی تعداد میں دُگنا اضافہ ہوا اور سو افراد کو سزائے موت دی گئی جبکہ ایران 251 سزائے موت کی سزاؤں کے ساتھ چین کے بعد دوسرے نمبر پر سب زیادہ سزائے موت دینے والا ملک بن چکا ہے۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گذشتہ چار برسوں سے عالمی سطح پر سزائے موت میں کمی کا رحجان دیکھنے میں آیا ہے۔ اب یہ سزائیں کم ہو کر 657 تک آ گئی ہیں جو سنہ 2018ء کے مقابلے میں پانچ فیصد کم ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق یہ گذشتہ دہائی کی سب سے کم تعداد بنتی ہے۔

ایمنسٹی نے ان اعداد و شمار میں چین کو شامل نہیں کیا. جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ پھانسی دئیے جانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے. لیکن وہ ایک ریاستی راز ہی بن کر رہ گیا ہے۔

یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ایران، شمالی کوریا اور ویتنام نے معلومات تک رسائی کو روکتے ہوئے سزائے موت پانے والوں کی صیحح تعداد نہیں بتائی۔

ایمنسٹی کی سینیئر ریسرچ ڈائریکٹر کلیر الگر کا کہنا ہے کہ ’سزائے موت ایک غیر مہذب اور غیر انسانی قسم کی سزا ہے اور اس بات کا کوئی ناقابل تردید ثبوت نہیں ہے کہ اس سے قید کے مقابلے میں جرائم کی حوصلہ شکنی ہوئی ہو۔‘

ان کے مطابق بڑی تعداد میں ممالک نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے اور یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے کہ اب دنیا بھر میں ان سزاؤں میں کمی آ رہی ہے۔

’تاہم چند ایسے ممالک ہیں جنھوں نے اس عالمی رحجان کی نفی کرتے ہوئے سزائے موت میں ایک تسلسل سے اضافہ کیا ہے۔‘

گذشتہ سال سعودی عرب نے 178 مردوں اور چھ خواتین کو سزائے موت دی۔ سزائے موت پانے والوں میں آدھی سے ذیادہ تعداد غیر ملکیوں کی بنتی ہے۔ 2018ء میں سزائے موت کی یہ تعداد 149 تھی۔

ان میں سے اکثریت کو قتل اور منشیات سے متعلق جرائم میں سزائیں سنائی گئی تھیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو