کورونا کی وجہ سے لگژری ہوٹل بے گھر خواتین کے لیے مختص

کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے وہیں عالمگیر وبا نے دنیا بھر میں بے گھر افراد کی زندگیوں کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ اور خوف کی وجہ سے تمام تر لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہیں جب کہ بے گھر افراد کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

اسی ضمن میں یورپی ممالک سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں ایک 3 اسٹار ہوٹل نے بے گھر خواتین کو ٹھکانہ فراہم کرنے کا عزم کیا ہے اور ہوٹل کے 20 کمروں کو بے گھر خواتین اور نوجوان کیلئے مختص کیا گیا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے تمام تر عوامی تقریبات منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن کے باعث جینیوا کے ایسپیرینس ہوٹل نے بے گھر خواتین اور نوجوانوں کو مسکن فراہم کرنے کا اعادہ کیا۔

اس ہوٹل میں رہنے والی 16 سالہ نوجوان صوفیانے رحمانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے وہ سڑکوں اور گلیوں میں اپنی زندگی گزار رہی تھی لیکن اب اس ہوٹل میں ان کا اپنا الگ کمرہ اور باتھ روم ہے اور یہاں وقت پر کھانا بھی ملتا ہے۔

ہوٹل کے سربراہ نے بتایا کہ جیسے ہی سوئٹزرلینڈ میں تمام تر عوامی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی تو ہمارے ہوٹل کی 90 فیصد بکنگ منسوخ ہوگئی تھیں اور ہمارا ہوٹل خالی ہوگیا تھا۔ ہوٹل کی یہ بلڈنگ ماضی میں 60 سال سے بے گھر افراد کا آشیانہ تھی. 1996ء میں اسے ایک 3 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کردیا تھا اور یہاں ایک دن رہنے کے لیے صارف کو 620 ڈالر کی قیمت ادا کرنی ہوتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو