میانمار میں پارسل بم دھماکے میں رکن اسمبلی سمیت 5 افراد ہلاک

ینگون، میانمار میں پارسل دھماکے میں معزول حکمراں آنگ سان سوچی کی جماعت کے معزول رکن اسمبلی اور فوجی بغاوت کے مخالف 3 پولیس افسران سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار کے ایک گاؤں میں فوجی بغاوت کے بعد ایک رکن اسمبلی، فوجی احکامات ماننے سے انکار کرنے والے پولیس افسران کے ساتھ خفیہ طور پر رہائش اختیار کیئے ہوئے تھے۔ اُن کے ٹھکانے پر ایک پارسل آیا جسے کھولنے پر زور دار دھماکا ہوگیا۔ دھماکے میں رکن اسمبلی، 3 پولیس اہلکار اور پڑوسی ہلاک ہوگئے۔

پارسل دھماکے کے علاوہ ملک میں دیگر دو دھماکے بھی ہوئے جس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ گزشتہ روز بھی میانمار کی علیحدگی پسند جماعت نے ایک ملٹری ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ یکم فروری میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے ملک میں دھماکوں اور پُرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں فوجی بغاوت کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جسے کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے اور صرف تین ماہ میں پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی اور اب پولیس بھی سول نافرمانی تحریک کا حصہ بن رہی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو