آواز اور لیزر سے کینسر شناخت

جامعہ نوٹنگھم کے ماہرین نے اپنی نوعیت کا پہلا امیجنگ سینسر بنایا ہے جو انسانی جسم میں جاکر خلیاتی سطح پر پوری ساخت کا تفصیلی تھری ڈی (سہ جہتی) ماڈل بناتا ہے۔ انسانی بال سے بھی باریک اس سینسر کا سرا آواز (الٹرا سانک) امواج اور لیزر خلیاتی سطح تک پھینکتا ہے اور تصاویر دیکھ کر ہم کسی جگہ کے ابھار دیکھ کر کینسر کی موجودگی یا عدم موجودگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اس طرح یہ دنیا کا پہلا فائبر آپٹک الٹرا سونک نظام ہے جسے معیاری اینڈو اسکوپک آلات کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اب تک ہم کسی اینڈو اسکوپ سے خلوی سطح کو دیکھ نہیں پائے تھے۔ دوسری جانب کسی مقام کو روشن کرنے والے کیمیکلز کی ضرورت بھی رہتی ہے۔ تاہم نیا نظام ان سب کے بغیر کام کرسکتا ہے۔

چونکہ یہ نظام نینو پیمانے پر کام کرتا ہے اس لیے بہت تفصیل سے بدن کے اندر کے سرطان کی خبر لی جاسکتی ہے۔ تصویری سینسرمیں لیزر کے دو جوڑے ہیں اور آواز کی بلند فری کوئنسی اس کی دھاتی نوک سے خارج ہوتی۔ آواز کے جھماکوں کو فونون کا نام دیا گیا ہے۔ پہلے فونون اطراف کے ٹشوز میں پھینکے جاتے ہیں۔ آواز اندرونی ٹشوز سے ٹکرا کر بکھر جاتے ہیں اور یہاں لیزر سامنے آکر ایک سہ جہتی تصویر بناتی ہے۔ اسے دیکھ کر ماہرین جسم کے اندر کی تبدیلیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب تصویر میں کسی ابھار کی سختی اور نرمی کا بھی معلوم کیا جاسکتا ہے جو کینسر کی نشاندہی کرسکتی ہے۔ یہ پورا نظام ایک واحد آپٹیکل فائبر سے جوڑا جاسکتا ہے اور اسی سے کام لیا جاسکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو