اپریل میں مہنگائی میں اضافہ اور افراط زر بڑھ کر 11.1 فیصد پر پہنچ گیا

اپریل میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.1فیصد تک پہنچ گئی۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق گذشتہ ماہ کنزیومر پرائس انڈیکس بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگیا۔ یہ 13ماہ میں افراطِ زر کی بلند ترین شرح ہے۔ واضح رہے کہ 4 روز قبل ہی وزارت خزانہ نے افراطِ زر کی شرح 8 تا 9.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔

ذرائع نے کہ وزارت خزانہ کا اکنامک ایڈوائزر ونگ اصل اعدادوشمار سے آگاہ تھا اس کے باوجود اس نے غیرحقیقی اعدادوشمار شائع کیے۔

ادارۂ شماریات کے مطابق اپریل میں بجلی کے نرخ ایک سال قبل کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ تھے، اس کے علاوہ گندم، چینی اور آٹا سمیت تمام اشیائے خورونوش کی قیمتیں دہرے ہندسوں میں بڑھیں۔ اپریل میں مرغی کی قیمت میں 100 فیصد، ٹماٹر 81 فیصد، انڈے 42 فیصد اور گندم کے نرخ ایک سال کے قبل کے مقابلے میں 27 فیصد زائد رہے۔ کوکنگ آئل کے نرخوں میں 19 فیصد، چینی 18 فیصد اور آٹا 17 فیصد مہنگا ہوا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو