انتخابی اصلاحات کے معاملے پر احسن اقبال اور فواد چوہدری آمنے سامنے

انتخابی اصلاحات کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نجی چینل پہ آمنے سامنے آ گئے۔

نجی چینل پہ ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ہمیں حکومت پر بھروسہ نہیں ہے، حکومت اپنی اصلاحات الیکشن کمیشن کو بھجوائے پھر کمیشن سب پارٹیز کو رائے دہی کے لیے بلائے اور اس طرح اتفاق رائے ہو گا۔

دوران گفتگو احسن اقبال کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ہیکنگ کے خدشات کا اظہار بھی کیا گیا۔

دوسری جانب احسن اقبال کے بیان پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کا۔

فواد چوہدری نے مزید کہا احسن اقبال کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر خدشات درست نہیں ہیں، ان کو اس حوالے سے صحیح معلومات نہیں ہیں۔

اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے نارووال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 3 سال تک آپ کو انتخابی اصلاحات یاد نہیں آئیں، جب آپ ہر انتخاب ہار رہےہیں تو الیکٹرونک ووٹنگ یاد آرہی ہے، الیکٹرانک ووٹنگ دھاندلی اور نئے ڈرامے کا نام ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہے تو اصلاحات الیکشن کمشنر کو بھیجے، کراچی کے الیکشن نے ثابت کیا ن لیگ ہی سندھ کی کامیاب جماعت ہے، کراچی کے عوام ن لیگ کے ساتھ ہیں، مسلم لیگ ن نے کراچی کو امن دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہمت نہیں کہ اسمبلی توڑ سکیں، ان کو پتہ ہےحکومت جانےکے بعد جواب دینا پڑے گا، عمران خان پکنک انجوائے کر رہے ہیں وہ کوئی حکومت تو نہیں چلا رہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو