جدید زندگی چھوڑ کرسالوں تک جنگلوں میں رہنے والے شخص کی حیران کن کہانی

ناروے کے ایک شخص نے یورپ کی پرآسائش اور جدید زندگی چھوڑ کر انڈونیشیا کے جنگلوں میں رہنے والے ایک قبیلے کے ساتھ جا کر رہنا شروع کر دیا۔

اور تین سال جنگل میں زندگی گزارنے کے بعد اب اس نے دنیا کو اپنے اس تجربے کے متعلق حیران کن تفصیلات بتا دی ہیں۔ میل ان لائن کے مطابق اس شخص کا نام اوڈن امنڈسین ہے۔ وہ 2004ء میں 24سال کی عمر میں پہلی بار انڈونیشیا آیا اور ایک ماہ تک اس جنگلی قبیلے کے ساتھ رہا اور واپس چلا گیا۔

پھر 2009ء میں وہ واپس آیا اور تین سال تک اس قبیلے کے ساتھ انھی کے جیسی زندگی گزارتا رہا اور اپنے وہاں گزارے شب و روز کو کیمرے میں محفوظ کرتا رہا۔ اب اس کی یہ ڈاکومنٹری ایک فلم کی صورت میں دنیا کے سامنے آنے والی ہے۔ ان تین سالوں میں فلم ساز اوڈن نے اس قبیلے کی زبان سیکھی جو وہ صرف بولتے ہیں مگر لکھتے نہیں ہیں کیونکہ ان میں تعلیم کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔

اوڈن کا کہنا ہے کہ ”مینتاوئی (Mentawai) نامی اس قبیلے کے ساتھ جنگل میں گزرنے والے ان سالوں میں میں نے جس چیز کو سب سے زیادہ یاد کیا وہ جدید دنیا کی آسانیاں اور مزے مزے کے کھانے تھے۔وہاں میں قبیلے کے لوگوں کے ساتھ مل کر تیر بناتا اور پھر ان سے ہم شکار کرتے تھے جو ہماری خوراک ہوتی تھی۔

ہم زیادہ تر بندروں، چمگادڑوں اور جھینگوں وغیرہ کا شکار کرتے تھے۔“ اوڈن قبیلے کے ساتھ اپنے اس قیام میں قبیلے کے ایک نوجوان ’امن پیکسا‘ کو جدید شہری زندگی کی طرف راغب کرتا ہے اور اسے مختلف قسم کے لالچ دے کر شہر جا کر ملازمت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

وہ اس کی باتوں سے متاثر ہو کر شہر جا کر ملازمت کرنے لگتا ہے لیکن جلد ہی وہ شہر کے شور و غل سے تنگ آ کر واپس جنگل میں اپنے قبیلے کے پاس چلا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’مجھے یہ شوروغل پسند نہیں ہے، میں واپس جا رہا ہوں۔‘ اوڈن کی اس نئی فلم کا نام ’نیو ٹوپیا‘ ہے جو جلد ریلیز ہونے والی ہے۔ اس میں قبیلے کے اسی مقامی شہری پیکسا کی شہر آ کر ملازمت تلاش کرنے اور پھر واپس جانے کی کہانی دکھائی گئی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو