امریکا، سیاست دانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ

امریکی ریاست فلوریڈا میں سیاست دانوں کے اکاؤنٹ بند کرنے والی سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھاری جُرمانے عائد کرنے کا قانون منظور کر لیا گیا۔

فلوریڈا کی مجلسِ قانون ساز کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے اس متنازعہ بل کو دستخط کے لیےگورنر رون ڈی سینٹس کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت سماجی رابطے کی ویب سائٹس کو سیاست دانوں کے اکاؤنٹس 14 دن کے لیے معطل کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور قانون کی خلاف ورزی پر ڈھائی لاکھ ڈالر فی دن تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

انٹر نیٹ پر آزادی اظہار کو فروغ دینے والے گروپ نیٹ چوائس کی جانب سے گزشتہ ماہ اس قانون سازی کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا تھا۔ نیٹ چوائس کے سی ای او اسٹیو ڈیل بیانکو کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نتائج غیر ارادی ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ یہ بل ریاست کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوچکا ہے، لیکن اسے ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے، کیوں کہ یہ قانون امریکا کہ پہلے ترمیمی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

یاد رہے کہ ریاست فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں۔ اور رواں سال جنوری میں کیپیٹل ہل میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد ٹوئٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ پر پابندی اور یوٹیوب، فیس بک نے بھی سابق صدر کے اکاؤنٹس معطل کردیے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو