امریکی عوام لاک ڈاؤن کے باوجود حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے پر مجبور

دنیا کی بظاہر مضبوط ترین معیشت رکھنے والے ملک امریکہ میں بے روزگاری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور عوام لاک ڈاؤن کے باوجود حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

امریکی عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے او وہ لاک ڈاؤن کے خلاف بھی مظاہرے کر رہے ہیں۔

امریکہ میں کورونا نے شعبہ سیاحت سے وابستہ لوگوں سے بھی روز گار چھین لیا ہے اور اب تک اسی لاکھ امریکی بےروزگار ہو چکے ہیں۔

فوربز رپورٹ کے مطابق امریکہ کا شعبہ ہوا بازی کورونا وائرس کے سبب شدید متاثر ہوا ہے اور رواں ماہ کے آخر تک تین سو چودہ ارب ڈالر کا نقصان متوقع ہے۔

امریکہ میں لاک ڈاؤن کے باعث بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے شہریوں کی بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاست واشنگٹن، مونٹانا، ایریزونا اور کولاراڈو میں شہریوں نے لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے کئے۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت گھر پر رہنے کی پالیسی اور لاک ڈاؤن ختم کرے۔ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے مظاہروں میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعری بازی بھی کی گئی۔

امریکی ریاست نیویارک کورونا وائرس کے سبب شدید متاثر ہوئی ہے جہاں اٹھارہ ہزار سے زائد اموات اور دو لاکھ سینتالیس ہزار سے زائد افراد بیمار ہیں۔

امریکہ میں مجموعی طور پر چالیس ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں اور سات لاکھ تریسٹھ ہزار سے زائد مریض ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو