کیا واقعی 5جی کے ذریعے کورونا وائرس پھیل سکتا ہے…؟

برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) سے وابستہ ڈاکٹر نے 5 جی کے ذریعے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق خبروں کی حقیقت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 جی کے ذریعے کورونا وائرس کا پھیلاؤ ناممکن ہے کیونکہ وائرس ریڈیو ویوز کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہو سکتے۔

این ایچ ایس سے وابستہ ڈاکٹر نے مزید بتایا کہ کورونا وائرس جسم کے کچھ حصوں کے ذریعے ہی جسم میں داخل ہوتا ہے نہ کہ ریڈیو ویوز کے ذریعے۔

ڈاکٹر بائرڈا نے کہا کہ کورونا کسی کو چھونے یا ہاتھوں پہ وائرس کے لگنے اور منہ یا آنکھوں کے ذریعے ہی جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

این ایچ ایس کے ڈاکٹر نے سماجی دوری اختیار کرنے اور قرنطینہ میں رہنے کو کورونا وائرس سے بچاؤ کا حل بتایا اور اس امر پر زور دیا کہ ہاتھ 20 سیکنڈ تک صابن اور گرم پانی سے دھوئیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سوشل میڈیا پہ وائرل ہونے والی ویڈیوز کی وجہ سے اس موضوع پر بات کرنا ضروری سمجھا۔

ڈاکٹر بائرڈا کا مزید کہنا تھا کہ یہ کہنا بھی بالکل غلط ہے کہ 5جی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھروں میں موجود میائیکرو ویو اوون سے نکلنے والی شعاعیں 5 جی سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں لیکن وہ بھی قوت مدافعت کو کمزور نہیں کرتیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو