ہر سات سیکنڈ میں درخت سے سیب اتارنے والا روبوٹ

دنیا بھر میں کووڈ 19 وبا کی وجہ سے اب باغوں سے پھل اتارنے والوں کی بھی قلت ہوچکی ہے۔ بالخصوص نیوزی لینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں چیری، کیوی اور سیب وغیرہ اتارنے کے لیے بیرونِ ممالک سے بھی افرادی قوت بلائی جاتی ہے تاہم اب یہ مشکل ایک روبوٹ نے حل کردی ہے۔

یہ روبوٹ سات سیکنڈ میں ایک سیب پیڑ سے الگ کرتا ہے اور اسے خراب بھی نہیں کرتا۔ آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کے شعبہ مکینکل اینڈ ایئرو اسپیس انجینئرنگ کے ماہرین نے طاقتور کیمروں اور ڈیپ لرننگ الگورتھم کی مدد سے یہ روبوٹ بنایا ہے جو پیڑ پر پھلوں کو شناخت کرتا ہے اور روبوٹ کو بتاتا ہے کہ پھل کو کہاں سے توڑنا ہے۔

کورونا وبا سے آسٹریلیا کی فصلوں پر مزدوروں کی شدید قلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب غلہ بانی، جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے اور فصلوں پر دوا چھڑکنے والے ڈرون عام استعمال ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹرابیری جیسے نازک پھل اتارنے والے روبوٹ بھی بنائے جاچکے ہیں۔

روبوٹ کی سب سے اہم شے وہ نظام ہے جو پھل توڑتا ہے اور یہ ہوا کے دباؤ (نیومیٹک) کے تحت کام کرتا ہے۔ اس میں چار انگلیاں اور ہوا کھینچنے والا (سکشن) پمپ لگا ہے۔ اس سے پھل کھینچ کر قریب لایا جاتا ہے اور انگلیاں اسے تھام لیتی ہیں۔ 85 فیصد حالات میں روبوٹ بالکل درست انداز میں سیب توڑسکتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق روبوٹ چار فٹ کی دوری سے 90 فیصد پھلوں کو پہچان سکتا ہے خواہ کیسا ہی موسم اور روشنی کیوں نہ ہو۔ پورا نظام 200 ملی سیکنڈز سے بھی کم وقفے میں سیب کو پہچان لیتا ہے۔ اب اس سال باقاعدہ طور پر اسے سیبوں کے باغات میں آزمایا جائے گا۔ روبوٹ کی جانب سے پھل خراب کرنے کی شرح 6 فیصد سے بھی کم ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو