دھات کھا کر توانائی بنانے والا روبوٹ تیار

 پینسلوانیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دھات سے بجلی بنانے والا نظام تیار کرلیا ہے۔ فوٹو: نیو اٹلس

پینسلوانیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دھات سے بجلی بنانے والا نظام تیار کرلیا ہے۔ فوٹو: نیو اٹلس

پینسلوانیا: ایک ایسا روبوٹ بنایا گیا ہے جو کسی دھات بالخصوص المونیم سے اپنی توانائی کشید کرتا رہتا ہے اور اسے کسی بیٹری کی ضرورت نہیں رہتی ۔

پینسلوانیا یونیورسٹی کے انجینیئرنگ شعبے کے ماہرین نے روبوٹ کی ایک نئی قسم بنائی ہے جسے میٹل ایئر اسکیوینجر یا ایم اے ایس کا نام دیا گیا ہے۔ ایسے روبوٹ ہوا اور دھات سے توانائی کشید کرتے رہتے ہیں۔

لیکن اب بھی اس میں بیٹری کا ایک بنیادی خاکہ تو موجود ہے جس میں کیتھوڈ، اینوڈ اور برقیرہ یعنی الیکٹرولائٹ لگا ہے۔ لیکن اینوڈ کسی بیٹری سے جڑا ہوا نہیں بلکہ کسی بھی دھات پر رکھ کر یہ بجلی حاصل کرسکتا ہے۔ اس کا کیتھوڈ حصہ کاربن سے بنا ہے جس پر پولی ٹیٹرا فلوروایتھائلین (پی ٹی ایف ای) کی ایک پرت چڑھائی گئی ہے۔ لیکن اس میں انتہائی باریک نینوموتی بکھرے ہیں جن کے اندر پلاٹینم دھات رکھی گئی ہے۔

اب جو برقیرہ (الیکٹرولائٹ) بنایا گیا ہے وہ ایک طرح کا ہائیڈروجیل ہے جس میں نمکین پانی بھرا ہے۔ جب اس جیلی جیسے مادے کو دھات پر گھسیٹا جاتا ہے تو وہ دھات کو تکسیدی (آکسیڈائزیشن) کے عمل سے گزارتا ہے اور بجلی پیدا ہوتی ہے۔

اس پر کام کرنے والے ڈاکٹر جیمز پائیکل کہتے ہیں کہ یہ ہمارے اندازے سے دس گنا زائد بجلی بناتا ہے اور اس طرح کئی طرح کی بیٹریوں پر بھاری ہے۔ یعنی یہ بیٹری کی کیمسٹری تو ضرور استعمال کرتا ہے لیکن اس کی طرح بھاری بھرکم نہیں کیونکہ بیٹری کے سارے کیمیکل یہ اپنے ماحول سے حاصل کرتا ہے۔

اس نظام سے ایک کھلونا گاڑی جوڑ کر اسے المونیئم کی سطح پر رکھا تو سسٹم نے بجلی بناکر کار کو چلانا شروع کردیا جس کی ویڈیو بھی بنی ہے۔ گاڑی ہائیڈروجل کو المونیم کی سطح پر رگڑتی رہی جس سے بجلی بنتی رہی اور گاڑی ایک دائرے میں چکر کاٹتی رہی ۔ لیکن اس دوران ہائیڈروجل کو تر رکھنے کے لیے پانی کی تھوڑی تھوڑی مقدار کو شامل کیا جاتا رہا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو