جس سرزمین سے روزگار کماتے ہیں، اسی کے خلاف زہر اُگلتے ہیں، اماراتی شہزادی بھارتیوں پر آگ بگولہ

متحدہ عرب امارات میں مقیم چند بھارتیوں کی جانب سے تبلیغی جماعت سے متعلق شرمناک پوسٹ اور کمنٹس کیے جا رہے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے بھی ان پوسٹ کرنے والوں کے خلاف کڑی کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے ڈی پورٹ بھی کیا جا رہا ہے۔

اماراتی شہزادی ہِند القاسمی نے امارات میں مقیم ایک بھارتی شہری کی جانب سے تبلیغی جماعت کے خلاف متعصبانہ پوسٹ لگانے والے کو سخت جواب دیتے ہوئے کہہ دیا ”تمہیں امارات سے باہر نکال دیا جائے گا“۔

بھارتی شہری سوربھ اُپادھیائے نے دہلی میں مسلمانوں کے تبلیغی اجتماع سے متعلق توہین آمیز پوسٹ لگاتے ہوئے انہیں کورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ سوربھ نے اپنی پوسٹس میں یہ بھونڈا الزام بھی لگایا تھا کہ مسلمان کھانے پینے کی اشیاء پر جان بوجھ کر تھُوک رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو کورونا کا شکار بنایا جا سکے۔

شہزادی ہِند القاسمی نے سوربھ کی ان نفرت انگیز ٹویٹر پوسٹس کے اسکرین شاٹس لے کر انہیں اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کیا اور خبردار کیا کہ جو لوگ امارات میں مذہب اسلام کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں اور نسل پرستی پر مبنی پوسٹ لگا رہے ہیں ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا اور پھر انہیں امارات سے باہر نکال دیا جائے گا۔

شہزادی ہِند نے اُپادھیائے کی شرمناک پوسٹ پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کمنٹ کیا” اگرچہ امارات کا شاہی خاندان بھارتیوں کو اپنا دوست تصور کرتا ہے، مگر اُپادھیائے جیسے لوگوں کے تعصب اور نفرت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہاں جتنے بھی غیر ملکی ملازمین آتے ہیں، کوئی بھی مفت میں کام نہیں کرتا، سب کو معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

جس (اماراتی) سرزمین پر رہتے ہوئے اچھا روزگار کماتے ہیں، اسی کے خلاف زہر اُگلتے ہیں۔ آپ لوگوں کی جانب سے اس طرح کی توہین اور تضحیک ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔”

مسلمانوں کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنے والے سوربھ اُپادھیائے نے قانونی کارروائی کے خوف سے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ روز سے دُبئی اور ابوظہبی میں مقیم چند بھارتی ہندو افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کی توہین پر مبنی پوسٹ لگانے کے شرمناک واقعات میں تیزی آ گئی ہے۔
مختلف کمپنیوں میں ملازمتیں کرنے والے بھارتی ہندوؤں متیش اُدیشی، سمیر بھنڈاری اور راکیش بی کٹو مارتھ کو قابلِ اعتراض پوسٹ لگانے پر نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ بھی چلایا جائے گا.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو