نئی خلائی دوربین نے دور دراز سیاروں کا مشاہدہ شروع کردیا

یورپی خلائی ایجنسی کی تیارکردہ دوربین کے اوپس تمام ٹیسٹ سے گزرنے کے بعد اب نئے سیارے دریافت کرنے کی جستجو میں ہے۔

برسلز: یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) نے نظامِ شمسی سے ماورا نئے سیاروں (ایگزوپلانیٹس) کی دریافت کے لیے جو نئی خلائی دوربین بنائی ہے وہ آزمائش کے بعد اپنے اولین مشاہدے میں مصروف ہوگئی ہے۔

اس دوربین کو ’کے اوپس‘Cheops کا نام دیا گیا ہے جو دی کیرکٹرائزنگ ایکزوپلانیٹ سیٹلائٹ‘ کا مخفف ہے۔ مسلسل تین ہفتے کے ٹٰیسٹ کے بعد یہ ہبل خلائی دوربین کی طرح اپنے مدار میں ہے اور اب اس نے دوردراز سیاروں اور ان کے گرد چمکتے ستاروں کا مشاہدہ بھی شروع کردیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق اس کے تمام ٹیسٹ بہترین رہے ہیں اور ہر آلہ پوری استعداد کے ساتھ کام کررہا ہے۔ یہ دوربین دسمبر 2019ء میں مدار میں بھیجی گئی تھی۔ پھر جنوری 2020ء میں اس نے کچھ ستاروں کی تصاویر لی تھیں۔ اس کا خاص ڈٹیکٹر روشنی کو دیکھتا ہے، کم کرتا اور بڑھاتا ہے تاکہ اطراف میں موجود سیاروں کو تلاش کیا جاسکے۔

اس دوربین کی کل لمبائی ڈیڑھ میٹر ہے جس کے بعض ٹیسٹ اس سال فروری اور مارچ میں کئے گئے تھے۔ مارچ کے اختتام پر اس کے فوکس کو ٹیسٹ کیا گیا جو بہت عمدہ تھا اور اس کے بعد اسے باقاعدہ طور پر استعمال میں لایا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ دوردراز ستاروں کو دیکھے گی تاکہ ان کے اطراف کسی ممکنہ سیارے کا مشاہدہ کیا جاسکے۔ اس طرح توقع ہےکہ خلائی دوربین ہبل کی طرح یہ بہت سی اہم دریافتیں بھی کرسکے گی۔

اس کی تعمیر کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ کے اوپس کا اصل کام اب شروع ہوچکا ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی نئے سیاروں کی دریافت ممکن ہوسکے گی.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو