پاکستان اسٹیل مل کے ایک پلانٹ سے یومیہ 25 ہزار سلنڈرز بھرے جاسکتے ہیں، انجینئرز

نیشنل انجینئرز ویلفیر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیل مل کے ایک پلانٹ سے یومیہ 25 ہزار سلنڈرز بھرے جاسکتے ہیں۔

انجینیئرز کی رجسٹرڈ تنظیم نیشنل انجینئرز ویلفیر ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کو خط ارسال کردیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان اسٹیل کے آکسیجن پلانٹ کی بحالی کے لیے پیشہ وارانہ خدمات قومی جذبہ کی ساتھ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسٹیل میں 260 ٹن یومیہ کے دو پلانٹ نصب ہیں، یورپی ساختہ پلانٹس میں سے ہر ایک پلانٹ فی گھنٹہ 7500 کیوبک میٹر اکیسجن پیدا کرسکتا ہے، جب کہ ایک پلانٹ سے یومیہ 25 ہزار سیلنڈرز بھرے جاسکتے ہیں، نیشنل انجینئرز اپنے وسیع تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اکیسجن پلانٹ کی بحالی کے اپنی خدمات فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل کا آکسیجن پلانٹ 2015ء سے بند ہے جسے 40 افراد پر مشتمل عملے کی مدد سے 8 سے 12 روز میں فعال کیا جاسکتا ہے، اس کے فیبریکیٹنگ ڈپارٹمنٹ میں آکسیجن کے سیلنڈرز بھی تیار کیے جاسکتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹیل کے ملازمین اور ورکرز یونین کے رہنماؤں نے حکومت کو پیشکش کی تھی کہ موجودہ حالات میں پاکستان اسٹیل کے آکسیجن پلانٹ کو فعال کرکے پورے پاکستان میں آکسیجن کی طلب پوری کی جاسکتی ہے اور آکسیجن کی بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔

حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کے بند آکسیجن پلانٹ کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع پاکستان اسٹیل کے مطابق تکنیکی ماہرین اور انجینئرز کل پاکستان اسٹیل ملز کے آکسیجن پلانٹ کا جائزہ لیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ اسٹیل ملز پلانٹ کا جائزہ لینے کے لیے ملٹری انجینئرنگ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے، جائزے کے بعد اندازہ ہو سکے گا کہ پلانٹ سے آکسیجن کس حد تک حاصل کرنا ممکن ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیل ملز کے پلانٹ سے بننے والی آکسیجن صرف سلنڈرز میں بھری جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر ملک میں آکسیجن کی کمی کا خدشہ ہے اور دوسری جانب پاکستان اسٹیل ملز میں آکسیجن کا بڑا پیداواری یونٹ موجود تو مگر بند پڑا ہے۔

ماہرین کے خیال میں آکسیجن پلانٹ چلانے کے لیے اسٹیل ملز کا مین پلانٹ چلانے کی ضرورت نہیں ہوگی، اس کے علاوہ آکسیجن گیس سلنڈرز کی کمی ہونے پر سلنڈرز مینو فیکچرنگ بھی ممکن ہے۔

بھارت میں آکسیجن نہ ہونے سے ہلاکتوں کی اطلاعات دل دہلانے والی ہیں اور ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہےکہ کورونا کیسز میں اضافہ جاری رہا تو پاکستان میں بھی آکسیجن کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو