اچھی نیند کی سات موثر تدابیر

بے خوابی یا نیند کی کمی سے مراد ہے انسانی جسم کو درکار نیند سے کم سونا ہوتا ہے۔

ایک عام انسان کو چوبیس گھنٹوں میں سات سے نو گھنٹے کی نیند درکار ہوتی ہے۔ کم سے کم سات گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ نو گھنٹے لیکن اس میں انفرادیت کے پیشِ نظر تھوڑی بہت کمی بیشی ہو سکتی ہے ۔ نیند کے دورانیے میں کمی بیشی نیند سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے۔

2019ء کی گلوبل ریلیکسیشن رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً آدھی آبادی (51 فیصد) اپنی ضرورت سے کم نیند کی شکایت کرتی ہے جن میں سے 80 فیصد لوگ چھٹی کا دن سو کر گزارتے ہیں تاکہ ہفتے بھرکی نیند کی کمی پوری کر سکیں ۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہفتے بھر کی نیند کی کمی ایک یا دو دن لگاتار سونے سے پوری ہو سکتی ہے ؟ اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو غلط لگتا ہے کیونکہ جیسے ہر کام اپنے وقت پر جچتا ہے بالکل ایسے ہی نیند بھی وقت پر پوری ہو تو انسانی جسم بہتر طریقے سے کام کر سکتا ہے بصورتِ دیگر نظام ِ زندگی درہم برہم ہو جاتا ہے۔

ناکافی نیند انسانی جسم اور اس کے روزمرہ کے معمولات پر گہرے نقوش چھوڑتی ہے جس کے باعث عارضہ قلب یعنی دل سے متعلق بیماریوں کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناکافی نیند کے باعث ذیابیطس کے مرض میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نیند کی کمی موٹاپے کا باعث بھی بنتی ہے۔ رات کو جاگنے والوں کی خوراک عموماً فاسٹ فوڈ ہوتی ہے جو وزن کے تیزی سے بڑھنے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دماغ کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے، غنودگی کے باعث ٹریفک حادثات کے امکانات بڑھتے ہیں۔

اس مرض کا شکار طالب علم ہو تو کلاس میں غائب دماغی کے باعث اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، استاد ہو تو طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے، آفس میں کام کرنے والا ہو تو اعلیٰ حکام کی توقعات پوری نہ کرسکنے کے باعث تنقید کی زد میں رہتا ہے، گھریلو خاتون ہو تو گھر کا نظام متاثر ہوتا ہے غرض اس کا شکار کوئی بھی ہو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کی زندگی کا پہیہ ہموار راہ پر چلتا رہے۔

خواب کے بنا زندگی کا کیا وجود کہ زندگی امیدوں اور خوابوں کی طنابوں پر ٹکا خیمہ ہے۔ طنابیں اکھڑیں تو پھر زندگی ہوا کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ ہوا جس جانب لے جائے زندگی وہیں جانے کی پابند ہوتی ہے اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے خود کو بدلتے دور کے تقاضوں کا بہانہ بنا کر برقی دنیا یعنی الیکٹرانک ورلڈ کے مصنوعی حسن کے حصار میں دے دیا ہے۔ جی بالکل، آج ہماری نیند کا دشمن ہمارا موبائل فون ، لیپ ٹاپ اور ٹی وی جیسے برقی آلات ہیں جن پر ہم اپنی نیندیں قربان کرکے اپنی زندگی کی ڈور ان برقی آلات کو تھما رہے ہیں۔

انسانی جسم چوبیس گھنٹے میں دن اور رات کے پیشِ نظر جن معمولات کو اپناتا ہے وہ قدرت کی جانب سے باڈی کلاک یا بائیولوجیکل کلاک کے تابع ہوتے ہیں۔ باڈی کلاک دراصل چوبیس گھنٹے کا وہ دورانیہ ہوتا ہے جو دن کی روشنی اور رات کے اندھیرے کے مطابق انسانی جسم کو باور کراتا ہے کہ اسے دن کی روشنی میں کام کرنا ہے جب کہ رات کے اندھیرے میں سونا ہے۔

یہ باڈی کلاک سونے اور جاگنے کے عمل کو یقینی بناتا ہے۔ سورج کی کرنوں کی آمد کے ساتھ ہی انسانی جسم Cortisol نامی ایک ہارمون خارج کرتا ہے جو انسان کو دن کے آغاز کے ساتھ بیدار اور چاک و چوبند بناتا ہے ، جیسے جیسے دن کا اجالا مدہم ہونے لگتا ہے ویسے ویسے انسانی جسم ایک اور Melatonin نامی ہارمون خارج کرتا ہے جو انسان پر غنودگی طاری کرتا ہے اور نیند کو یقینی بناتا ہے۔ برقی آلات سے نکلنے والی روشنی ان دونوں ہارمونز کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ روشنی نیند کے سائیکل کو بھی متاثر کرتی ہے جس سے مراد وہ مراحل ہیں جن سے گزر کر ہی ایک مکمل نیند کا حصول ممکن ہے۔

نیند انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے۔ کھانا، پینا اور سونا سانسوں کے تسلسل کو قائم رکھنے کے حیلے ہیں۔ خالقِ کائنات نے انسان کے معمولات کو ایک ترتیب دینے کے لئے کائنات کو ہی اس کے معمولا ت کا پابند کیا۔ دن کام کرنے کے لئے بنایا اور رات ڈھلتے ہی آنکھوں میں نیند کی نعمت اتاری تاکہ انسان دن بھر کی تھکن اتار کر نئے دن کے ساتھ تازہ دم ہوکر اٹھے اور زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب تک کوئی نعمت اس کے پاس تسلسل سے رہے اسے قدر نہیں ہوتی۔ نیند بھی ایک ایسی ہی نعمت ہے جو خاک کے پتلے پر اپنی اہمیت کے در تبھی وا کرتی ہے جب کسی وجہ سے یہ آنکھوں سے روٹھ جائے اور اگر ایک بار روٹھ جائے تو اسے منانا ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔

روٹھی نیند کو منانے کے حیلے کرتا انسان بعض اوقات ایسی راہوں پہ قدم رکھتا ہے جن سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا یعنی کہ نیند کی دوا۔ گو کہ مخصوص صورتحال میں یہ دوا لازم بھی ٹھہرتی ہے لیکن یہ انتہا ہے۔ جب نیند کو منانے کے تمام حیلے، تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تب دوا ناگزیر ہو جاتی ہے لیکن ڈاکٹر کے تفصیلی معائنے کے بعد ۔ عموماً نیند کا نہ آنا یا نیند کے دورانیے اور معیار میں کمی بیشی ہمارے روز مرہ کے معمولا ت کی دین ہوتی ہے اور وہ معمولات بظاہر اتنے بے ضرر ہوتے ہیں کہ ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہماری چھوٹی چھوٹی عادات کیسے ہمارے حصے کی نیند پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں۔

ہسپتال کے شعبہء نفسیات میں قدم رکھنے والے کم از کم 80 سے90 فیصد مریض دیگر شکایات کے ساتھ ساتھ نیند کی شکایت کرتے ہیں۔کوئی پریشانی ہو تو نیند غائب، بیماری آئے تو نیند ندارد، امتحانات سر پر ہیں اورنیند روٹھ گئی۔ بہت سے کیسز میں مریض اس الجھن میں گرفتار رہتا ہے کہ کوئی پریشانی نہیں ، کوئی مسئلہ نہیں پھر بھی نامکمل نیند جو چڑچڑے پن میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ غرض چھوٹے بچے سے لے کر بوڑھے افراد تک میں یہ شکایت عام ہے۔

نیند کے فوائد

اگر نیند کے فوائد کی بات کی جائے تو چیدہ چیدہ فوائد درج ذیل ہیں:

1۔جسم کے مدافعاتی نظام کی بہتری۔

2۔ جسم میں طاقت کی بحالی۔

3۔ دل کی مضبوطی اور دل کے امراض سے بچنے میں معاونت۔

4۔ بہتر نیند بہتر مزاج کی ضامن ہوتی ہے جب کہ ادھوری نیند چڑچڑے پن اور غصے کی وجہ بنتی ہے۔

5۔ یادداشت کے بننے کے عمل میں بہتری۔

6۔ خواب کی صورت جذبات کا اظہار اور ان کی رہائی۔

7۔ دماغ کے خلیات کی نشوونما۔

8۔ مناسب نیند مناسب وزن کو بھی یقینی بناتی ہے اور وزن کے بڑھنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔

نیند کے لئے حفظانِ صحت کے اصول

نیند کے لئے حفظانِ صحت کے درج ذیل چند اصول اپنانے سے جسم کی اس ضرور ت کو بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکتا ہے:

1۔ سونے اور جاگنے کے معمولات میں باقاعدگی

سونے کے معمولات میں باقاعدگی سے مراد ہے کہ روزانہ مخصوص وقت پر سویا اور مخصوص وقت پر جاگا جائے۔ یہ عمل دراصل باڈی کلاک سیٹ کرنے سے منسلک ہے ۔ دھیان رکھا جائے کہ یہ معمول چھٹی کے دن بھی متاثر نہ ہو ۔ چھٹی کے دن معمول سے ہٹ کر دیر سے سونا اور دیر سے جاگنا پورے ہفتے کی محنت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔

2۔ دن میں آرام کرنا

دن میں آرام کرنے کا مطلب ہرگز نیند نہیں ہے، اس سے مراد ہے کہ اپنے دن بھر کے معمولات کے دوران سکون سے چند گھڑیاں ایک جگہ بیٹھنا اور خود کو پرسکون کرنا۔ اس سلسلے میں ذہن اور جسم کو پرسکون کرنے والی ورزشو ں (Relaxation Exercises ) سے مدد لی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی گھنٹے ایک جگہ بیٹھ کر کام کرنے کے بعد تھوڑی سی چہل قدمی بھی جسم کو آرام دینے جیسا ہی ہے۔ دن کے اوقات میں سونے سے پرہیز کیا جائے۔ گرمیوں کے لمبے دن میں قیلولہ کیا جا سکتا ہے لیکن دھیان رکھا جائے کہ قیلولہ کئی گھنٹوں پر محیط مکمل نیند میں تبدیل نہ ہو ۔ اس مقصد کے لئے الارم کلاک کی مدد لی جا سکتی ہے۔

3۔ ورزش کا معمول

دن کے اوقات میں ورزش رات کی نیند میں بہتری کی وجہ بن سکتی ہے۔ رات سونے سے دو سے تین گھنٹے پہلے تک ورزش کرنا مناسب نہیں۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد پندرہ منٹ سے آدھے گھنٹے تک کی چہل قدمی خوراک کو ہضم کرنے کے ساتھ جسم کو تھکن کا احساس دیتی ہے اور دونوں عوامل نیند کی بہتری میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں ۔

4۔ قدرتی روشنی بمقابلہ بلیو لائٹ

کوشش کیجئے کہ روز مرہ کے معمولات میں قدرتی روشنی کے حصول کو یقینی بنائیں اور اس کے ساتھ ساتھ بستر پر سونے کی غرض سے جانے سے پہلے مصنوعی نیلی روشنی(Artificial Blue Light ) کا سامنا کم سے کم کریں۔ آرٹیفیشل بلیو لائٹ سے مراد بجلی کے آلات کی سکرین سے نکلنے والی روشنی ہے جس میں موبائل، لیپ ٹاپ اور ٹی وی وغیرہ کی سکرین شامل ہے۔

5۔ خوراک کے معمولات

سونے سے پہلے شراب نوشی، سگریٹ نوشی، چائے نوشی یا چاکلیٹ نما چیزیں کھانے سے پرہیز کیا جائے۔ شام کی چائے کا وقت پانچ بجے سے پہلے رکھا جائے۔ رات کے کھانے اور سونے کے درمیان مناسب وقفہ رکھا جائے ۔ کوشش کی جائے کہ یہ وقفہ دو سے تین گھنٹے کا ہو تاکہ خوراک آسانی سے ہضم ہو سکے اور اور نیند میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو۔

6۔ ذہن کو پرسکون رکھیے

رات سونے سے پہلے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کیجیے۔ اس مقصد کے لئے اپنی مرضی کی کسی بھی سرگرمی کا انتخاب کیا جا سکتا ہے مثال کے طور پر سکون آور موسیقی سے لطف اندوز ہونا، گرم پانی سے غسل کرنا ، گہرے سانس کی ورزشیں یا اس طرح کی کسی بھی سرگرمی کا انتخاب اپنے مزاج کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔ ان سب کا مقصد جسم کو دن بھر کی تھکن سے آزاد کرنا ہوتا ہے۔ دن بھر مختلف کاموں کے ساتھ ساتھ سوچیں بھی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہیں ۔ رات سونے سے پہلے خود کو ان فکروں اور تھکن سے آزاد کرنا نیند میں حائل ایک بڑی رکاوٹ کو دور کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایسا کرنے سے آپ اگلی صبح خود کو نسبتاً زیادہ تازہ دم پائیں گے ۔

7۔ مناسب ماحول

اپنا بستر صرف سونے کے لئے استعمال کیجئے۔ بستر پر دراز ہوکر مطالعہ کرنا، موبائل یا لیپ ٹاپ استعمال کرنا یا ٹی وی دیکھنا باڈی کلاک کو متاثر کرتا ہے ۔ سونے کی جگہ کو صاف ستھرا اور ہر ممکن حد تک پرسکون رکھنے کی کوشش کیجئے ۔ کمرے میں مناسب روشنی ہو اور ماحول موسم کی مناسبت سے ہو ( قدرے سرد ماحول پرسکون نیند کا باعث بنتا ہے) اور کمرہ ہر قسم کے شور سے آزاد ہونا چاہیے۔ اگر لیٹنے کے بعد بیس سے تیس منٹ تک نیند نہ آئے تو بستر چھوڑ دینا مناسب ہے۔ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کیجیے اور بستر پر دوبارہ تبھی دراز ہوں جب نیند محسوس ہو اور نیند نہ آنے کی صورت میں بستر پر دراز ہوکر موبائل استعمال کرنا خود سے اپنی نیند سے دشمنی کے مترادف ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو