ملیریا کے علاج میں بریک تھرو، نئی ویکسین ملیریا کیخلاف 77 فیصد تک مؤثر

ملیریا کے علاج میں بڑا بریک تھرو ہوا ہے اور نئی زیر تجربہ ویکسین ملیریا کے خلاف 77 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق نئی ملیریا ویکسین کے عوامی صحت پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ متعدد ویکسین تجربات کے بعد پہلی ویکسین ہے جو مقررہ اہداف پر پورا اتر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی زیر تجربہ ویکسین ملیریا کے خلاف 77 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

— فوٹو: بی بی سی
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے اس نئی ملیریا ویکسین R21/Matrix-M ویکسین کو مغربی افریقی ملک برکینا فاسو کے 450 بچوں پر استعمال کیا گیا، جس کے حیرت انگیز نتائج سامنے نظر آئے اور اس خطے میں سالانہ لاکھوں بچوں کی وجہ ہلاکت بننے والی مچھر کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔
اس ویکسین کوایجاد کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایڈریا ہل جو کہ کووڈ-19 کی آسٹرا زینیکا بنانے والی ٹیم کا حصہ تھے، کا کہنا ہے کہ تجربے کے آخری مرحلے میں ہم ساڑھے تین سال میں افریقی ممالک کے 4 ہزار 800 بچوں کو ویکسینیشن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ویکسین کے تجرباتی نتائج بہت شاندار اور توقع سےاچھے رہے ہیں۔ کیونکہ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق ویکسین کی اثرپذیری 75 فیصد ہونی چاہیے اور پہلی بار ہم نے ڈبلیو ایچ او کے مقرر کردہ معیار سے بلند نتائج دیے ہیں۔

یاد رہے کہ ملیریا ہر سال لاکھوں انسانوں کو متاثر اور چار لاکھ سے زائد افراد کو موت سے ہم کنار کردیتا ہے، جن میں اکثریت افریقا کے غریب علاقوں سے تعلق رکھنے والے شیر خوار اور بڑے بچوں کی ہے۔ دنیا بھر کے سائنس دان کئی دہائیوں سے ملیریا سے تحفظ کی موثر ترین ویکسین ایجاد کرنے پر کام کررہے ہیں اور اب تک صرف جی ایس کے کمپنی کی ویکسین Mosquirix کو کئی سالوں کے کلینیکل ٹرائلز کے بعد لائسنس جاری کیا گیا ہے، تاہم اس ویکسین کی اثر پذیری بھی 30 فیصد تک ہے۔

خیال رہے کہ ملیریا سے سالانہ 4 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں جن میں اکثریت صحارا افریقی علاقوں میں بچوں کی ہوتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو