طالبان نے مزید 20 افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو رہا کردیا

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے اور طالبان نے مزید 20 سیکیورٹی اہلکاروں کو رہا کردیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کے مشرقی صوبے لغمان میں 20 افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو رہا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کو رہائی کے موقع پر نئے کپڑے اور کرایہ بھی ادا کیا گیا۔

دوسری جانب افغان نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نے صدارتی حکم پر بگرام سے 361 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی گزشتہ ہفتے افغان طالبان نے 20 سیکیورٹی اہلکاروں کو رہا کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں افغان طالبان نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق افغان حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ افغان حکومت حیلے بہانے کرکے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کر رہی ہے۔

لیکن طالبان کے اعلان کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغان حکومت کو خبردار کیا تھا کہ آپس کے اختلافات ختم کرکے طالبان سے معاہدہ کریں ورنہ صدر ٹرمپ امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کا حکم دے سکتے ہیں اور افغانستان کی امداد بھی روک دیں گے۔

امریکا طالبان امن معاہدہ

29 فروری 2020ء کو قطر میں ہونے والے امریکہ طالبان معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا. جبکہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

معاہدے میں قیدیوں کی رہائی کی شرط بھی شامل تھی جس کے تحت 10 مارچ 2020ء تک طالبان کے 5 ہزار قیدی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو رہا کرنا تھا تاہم فریقین کے درمیان تنازعات اور افغان حکومت کے اعتراضات کے باعث یہ معاملہ تاخیر کا شکار ہوگیا تھا۔

قیدیوں کے تبادلے کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے ہیں، جس میں افغانستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے گفتگو ہوگی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو