لاہور میں حفاظتی کٹس کی عدم فراہمی کیخلاف گرینڈ ہیلتھ الائنس کا دوسرے روز دھرنا اور پولیس سے ہاتھا پائی…

پی آئی سی واقعے میں برطرف 4 ڈاکٹروں کی بحالی، عارضی بھرتی ہونے والے ساڑھے 4 ہزار ڈاکٹرز اور نرسز کی مستقلی اور دگنی تنخواہوں کے مطالبات رکھ دئیے

لاہور میں حفاظتی کٹس کی عدم فراہمی کیخلاف گرینڈ ہیلتھ الائنس کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا۔

ڈاکٹرز نے حفاظتی کٹس کی عدم فراہمی کو جواز بنا کر اپنے دیگر مطالبات بھی پیش کر دئیے، ان کے مطالبات میں پی آئی سی واقعے میں برطرف 4 ڈاکٹروں کی بحالی، کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر عارضی بھرتی ہونے والے ساڑھے 4 ہزار ڈاکٹرز اور نرسز کو مستقل کرنے سمیت تمام ڈاکٹروں کو دوگبا تنخواہیں دینا شامل ہیں۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس کا لاہور میں ہیلتھ سیکرٹریٹ کے سامنے گزشتہ روز سے دھرنا جاری ہے۔

محکمہ صحت کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش پرپولیس نے ڈاکٹرز کو روکا تو ان کی پولیس سے دھکم پیل ہوگئی اور بعد میں معاملہ طے پانے پر ڈاکٹروں نے پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے لگائے۔

محکمہ صحت کے مطابق حفاظتی کِٹس ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن اس کی آڑ میں انہوں نے دوسرے مطالبات ہمارے سامنے رکھ دئیے ہیں، جس کا ابھی کوئی جواز نہیں بنتا۔

دوسری جانب گرینڈ ہیلتھ الائنس کا کہنا ہے کہ ان کا بڑا مطالبہ حفاظتی کِٹس فراہم کرنے کا ہے۔

ادھر محکمہ صحت نے ڈاکٹروں کے احتجاج کے باعث اپنا دفتر عارضی طور پر گلبرگ میں منتقل کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں کورونا کیخلاف برسرپیکار ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو حفاظتی کٹس کی کمی کا سامنا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بتدریج اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو