نظریہ حقوق

مغربی جدیدیت نے جہاں بہت سے منفی نظریات کو متعارف کروایا وہاں ایک “نظریہ حقوق” بھی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کے حقوق کا احساس دلایا جائے۔ ہر ایک اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا سیکھے اور آواز بلند کرے۔ اس کے لئے مختلف طریقے متعارف کروائے گئے ہیں، جیسے پریس کلب کے سامنے احتجاج، دفاتر کے سامنے احتجاج، اپنی ذمہ داری کو احتجاج کی شکل میں ترک کرنا، دھرنا، جلسے جلوس وغیرہ۔  حقوق کے لئے آواز اٹھانے کو “جمہوریت کا حسن” کہا جاتا ہے اور جو بھی احتجاج کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اس احتجاج کا نتیجہ ہمیشہ فساد کی شکل میں ہی نکلتا ہے۔

جبکہ اسلام ہمیں فرائض سے آگاہ کرتا ہے۔ اسلام ترغیب دیتا ہے کہ آپ فرائض ادا کریں۔ کسی کے حقوق غصب نہ کریں۔ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ آپ کے ذمہ والدین کے حقوق ہیں، بہن بھائیوں کے حقوق ہیں، رشتہ داروں کےحقوق ہیں، اساتذہ کے حقوق ہیں، ہمسایوں کے حقوق ہیں، آپ ملازمت کررہے ہیں، اس ذمہ داری کے فرض کو ادا کریں۔ اسلام  ان حقوق کی ادائیگی کی ترغیب دیتا ہے۔ جس کے لئے اسلام معاشرے میں موجود ہر شخص کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتا ہے اور فرائض کی ادائیگی کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ حقوق کی ادائیگی کے لئے ادارے ہوتے ہیں اور حکومت ان حقوق کی ادائیگی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ بے شک اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اسلام کا عطا کردہ نظام موثر بھی ہے اور ہر طرح کے انتشار اور فساد سے پاک نظام زندگی کی ترتیب عطا کرتا ہے۔

تحریر : میاں قاسم
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو