1955 ماڈل مرسڈیز بینز14 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز میں نیلام

اس کا نام اس کے بنانے والے چیف انجینیئر روڈولف اوہلن ہاٹ کے نام پر رکھا گیا ہے(فائل فوٹو :اے ایف پی)

اس کا نام اس کے بنانے والے چیف انجینیئر روڈولف اوہلن ہاٹ کے نام پر رکھا گیا ہے(فائل فوٹو :اے ایف پی)

جرمنی: مرسڈیز بینز  1955کو مئی کے آغاز میں فروخت کیا گیا جو اتنی مہنگی فروخت ہوئی کہ اس نے پہلے کے تمام ریکارڈز توڑ ڈالے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کلاسک کاروں کی نیلامی کرنے والی کمپنی آر ایم سوتھبے کا کہنا ہے کہ مرسڈیز  بینز 1955 کو نیلام کر دیا گیا ہے اور یہ دنیا کی اب تک کی سب سے مہنگی فروخت ہونے والی کار ہے۔

رپورٹ میں  بتایا گیا ہے کہ مرسڈیز بینز 1955 جس کے صرف دو ورژن موجود ہیں،  14 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز ( 13 کروڑ 50 لاکھ یورو) میں نیلام ہوئی ہے جس نے اس سے پہلے کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ’1955 کی مرسڈیز بینز ایک پرائیویٹ گاہک کو 13 کروڑ 50 لاکھ یورو کی ریکارڈ قیمت میں نیلامی میں فروخت کی گئی ہے۔‘

واضح رہے کہ  یہ گاڑی پچھلے ریکارڈ سے تقریباً تین گنا زیادہ قیمت میں فروخت ہوئی، جسے 1962 فراری 250 جی ٹی او نے 2018 میں قائم کیا تھا۔ 1962 فراری 250 جی ٹی او چار کروڑ 80 لاکھ ڈالرز سے زیادہ میں فروخت ہوئی تھی۔

آر ایم سودتھبے نے کہا کہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال دنیا بھر میں مرسڈیز بینز فنڈ قائم کرنے کے لیے کیا جائے گا جو ماحولیاتی سائنس اور ڈی کاربونائزیشن ریسرچ کے لیے فنڈ فراہم کرے گا۔

نیلامی کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ صرف دعوت نامے کی بنیاد پر ہونے والی نیلامی تھی، جو 5 مئی کو جرمنی کے شہر سٹٹگارٹ کے مرسڈیز بینز میوزیم میں منعقد کی گئی تھی۔

آر ایم سودتھبی کے مطابق اس گاڑی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کار مرسڈیز بینز ریسنگ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بنائے گئے صرف دو پروٹوٹائپز میں سے ایک ہے اور اس کا نام اس کے بنانے والے چیف انجینیئر روڈولف اوہلن ہاٹ کے نام پر رکھا گیا ہے۔

یا درہے کہ دنیا کی مہنگی ترین کلاسک کار کے  خریدار نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ 300 ایس ایل آر اوہلن ہاٹ اہم مواقع پر عوامی نمائش کے لیے دستیاب رہے گی ۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔