یورپی یونین کی بری اور فضائی رابطوں کے ہنگامی منصوبوں کی تیاری

یورپی یونین نے برطانیہ کے ساتھ بریگزیٹ کے بعد نئے معاہدے کے کم ہوتے ہوئے امکان کے پیش نظر ہوائی اور زمینی رابطوں کو برقرار رکھنے کے لئے ہنگامی منصوبے تیار کرنا شروع کردئیے ہیں۔

ان ہنگامی منصوبوں کا مقصد اس درمیانی عرصے میں معاملات کو رواں رکھنا ہے، جس دوران کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

اس حوالے سے یورپین یونین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہونگے جو دیا گیا وقت ختم ہونے کے بعد خود بخود تحلیل ہو جائیں گے۔

دوسری جانب یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندر لین نے اپنے بیان میں کہا کہ بات چیت اب بھی جاری ہے۔ تاہم اس انتقال کا اختتام بہت قریب ہونے کی وجہ سے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اگر کوئی معاہدہ ہو بھی جائے تو اس پر بروقت عمل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یکم جنوری 2021 کو برطانیہ کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے سمیت تمام واقعات کیلئے تیار ہوں۔

یاد رہے کہ یورپ اور برطانیہ کے درمیان بریگزیٹ کے بعد نئے معاہدے کیلئے دونوں طرف کے مذاکرات کاروں کے درمیان تعطل آجانے کے بعد برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندر لین کے درمیان ذاتی طور پر بھی بدھ کے روز ملاقات میں معاہدے کیلئے بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی۔ لیکن اس دوران مذاکرات کی ناکامی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اب مزید گفتگو کیلئے اتوا ر کا دن مقرر کیا گیا ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان نئے تجارتی معاہدے کیلئے مذاکرات میں تعطل کا سبب یورپین ممالک یعنی فرانس اور بیلجیئم کی ماہی گیر کمپنیوں کی جانب سے برطانوی پانیوں میں ماہی گیری کے حقوق، دونوں اطراف کی کمپنیوں کیلئے منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانے اور مستقل کے تنازعات کو حل کرنے کے طریقے کی غیر موجودگی شامل ہیں۔

اس حوالے سے جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے جرمن قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ہم یورپین مارکیٹ کی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر برطانیہ کی طرف سے ایسی شرائط آئیں، جنکو ہم قبول نہ کرسکے تو ہم ایگزیٹ ایگریمنٹ کے بغیر اپنے راستے پر چلیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو