ہم نے بھی 126 دن دھرنا دیا کچھ نتیجہ نہيں نکلا، یہ بھی آجائيں اسلام آباد

حال ہی میں وزیر داخلہ بننے والے شیخ رشید نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہتے ہیں عمران خان سے بات نہیں ہوگی پھر نکالیں اپنے دل کی بات اور بتائيں کس سے بات کرنی ہے؟

انہوں نے کہا کہ عمران خان تمام مسائل سے کامیاب ہوکر نکلیں گے اور ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہوگی، لوٹ مار اور منی لانڈرنگ کا دور ختم ہوگا۔

وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے بھی 126 دن دھرنا دیا کچھ نتیجہ نہيں نکلا، یہ بھی آجائيں اسلام آباد۔

انہوں نے کہا کہ جدید ترین بارڈر منیجمنٹ سسٹم لاؤں گا، غریب لوگوں کو پاسپورٹ کی سہولت فراہم کروں گا اور امیگریشن کے معاملات بہتر بناؤں گا، چاروں صوبوں میں امن و امان بہتر کروں گا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اقتدار کے بھوکے اتوار بازار سجا رہے ہیں، آپ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان جلسے سے جارہا ہے تو یہ ’خیال است محال است‘، عمران خان آپ کے جلسے سے کہیں نہیں جارہے ہیں، کھلی اجازت ہے آپ جلسہ کریں، آپ پر کوئی پابندی نہیں، ملتان میں کنٹینرز کا جو مسئلہ پیدا ہوا وہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدان کال دیتا ہے، گلی گلی دعوت نامے بانٹ کر خوار نہیں ہوتا، یہ سیاستدان دو ماہ سے کوچے کوچے جا کر مہم چلا رہے ہیں، ان کی امیدیں بر نہیں آئیں گی، عمران خان کی کاپی کرنے والے مینار پاکستان کی سیاست سے نیچے جائیں گے۔

شیخ رشید نے الزام عائد کیا کہ آپ اسلام آباد آئیں لیکن جس ماہ کا آپ نے انتخاب کیا ہے وہ سناٹے کی سردی ہے، ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ ناکام ہوگی، ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے فارن انویسٹمنٹ کی جارہی ہے جو لوگ اندر سے انتشار پھیلانا چاہتے ہیں ناکام ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے بات نہیں ہوگی تو بتائیں آپ کس سے بات کرنا چاہتے ہیں، عمران خان سے بات نہیں کریں گے تو دل کے اندر کی بات باہر لائیں کس سے بات کرنا چاہتے ہیں؟ آپ صرف اپنی لوٹی ہوئی دولت بچانا اور کیسز سے نجات چاہتے ہیں۔

شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ 14، 15 اور 16 دسمبر کو عمران خان کے لیے خوشخبریاں ہیں، حکومت کے لیے بہتری اور اپوزیشن کے لیے ناکامی ہے، کوئی مجھے ٹاسک نہیں دیا گیا مجھے اپنی ذمہ داری کا پتا ہے۔

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ سے متعلق وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ڈی ایم کے رنگ پسٹن بیٹھے ہوئے ہیں، پلگ میں کچرا پھنسا ہے، یہ چوں چوں کا مربہ ہے، یہی اپوزیشن رہی تو اگلے الیکشن میں بھی عمران خان انہیں مات دے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اپوزیشن کے 11 جماعتی اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل ہیں اور گزشتہ دنوں سربراہی اجلاس کے بعد پی ڈی ایم نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو 31 دسمبر تک اپنی جماعتوں کے قائدین کے پاس استعفے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن نے اگلے ماہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور حکومت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہ کرنے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو