گھونگھے کی چکنائی والے صابن

28 سالہ ڈامین ڈیسروشر نے گھونگھوں کی بڑی تعداد کو پالا ہوا ہے اور وہ اس کے گاڑھے لیس دار مادے سے بنے صابن فروخت کررہے ہیں۔

ڈامین ڈیسروشر کہتے ہیں کہ کوریا اور چین میں خواتین گھونگھوں سے چہرے کا مساج کرواتی ہیں کیونکہ اس کی چپچپاہٹ جلد پر عمر رسیدگی کے آثار روکتی ہے اور اسے شاداب بناتی ہے۔

ڈامین کہتے ہیں کہ ایک گھونگھے سے ایک وقت میں دو گرام تک سلائم ملتا ہے اور صابن کی ایک ٹکیہ بنانے کے لیے 40 گھونگھوں کا لیسدار مادہ جمع کیا جاتا ہے۔ اس طرح 80 گرام سلائم کو صابونی اجزا میں ملاکر کئی ٹکیہ بنائی جاسکتی ہیں۔ بقول ڈامین اس کے لیے کئی گھونگھوں درکار ہوتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے 60 ہزار گھونگھے پال رکھے ہیں اور صرف 6 ہزار تو اپنے گھر میں رکھے ہوئے ہیں۔

ان سے سلائم خارج کرنا بھی ایک عمل ہے وہ پہلے گھونگھوں کو سبزہ اور گوبھی وغیرہ کھلاتے ہیں اور بعد میں اسے انگلی سے چھوتے ہیں تو وہ ردِعمل میں اپنا گیلا لیس دار مادہ خارج کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح گھونگھوں کو کوئی گزند پہنچائے بغیر ان سے صابن کا خام مال لیا جاسکتا ہے۔

اگرچہ مغرب میں اب تک گھونگھوں کی افادیت سامنے نہیں آئی ہے لیکن مشرقی ایشیا کے کئی ممالک مثلاً چین اور کوریا وغیرہ میں گھونگھوں کا مساج عام ہے اور اس کی چکنائی کو چہرے پر براہِ راست لگایا جاتا ہے۔ قدرت نے گھونگھے کو یہ چکنائی اس لیے دی ہے کہ وہ اپنے سخت خول میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے وقت کسی زخم کے شکار نہ ہوں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو