گرم لاوے پر پکایا گیا ’آتش فشانی پیزا‘ سوشل میڈیا پر مشہور

ویسے تو پیزا کو خاص تندور میں 250 ڈگری سینٹی گریڈ پر پکایا جاتا ہے لیکن ایک شیف ایسا بھی ہے جو 1,000 ڈگری سینٹی گریڈ جتنے شدید گرم لاوے پر پیزا پکاتا ہے جو سوشل میڈیا پر ’آتش فشانی پیزا‘ اور ’لاوا پیزا‘ جیسے ناموں سے بھی مشہور ہورہا ہے۔

خبروں کے مطابق، وسطی امریکی ملک گوئٹے مالا میں آتش فشاں ’پاکایا‘ اس سال فروری سے اُبل رہا ہے جس کی وجہ سے آس پاس رہنے والے لوگ شدید خوفزدہ ہیں۔

لیکن ڈیوڈ گارسیا نامی ایک مقامی اکاؤنٹنٹ اور شوقیہ باورچی نے اسی گرم اور پگھلے ہوئے لاوے کو اپنا باورچی خانہ بنا لیا اور وہاں پیزا پکانا شروع کردیا۔

اس پرخطر ماحول میں پیزا پکانا اپنے آپ میں جان جوکھم کا کام ہے تاہم اسی وجہ سے گارسیا کا ’لاوا پیزا‘ مشہور بھی ہے۔

گرم اور پگھلے ہوئے آتش فشانی لاوے پر پیزا پکانے کےلیے گارسیا نے عارضی میز کے علاوہ خصوصی کپڑوں، جوتوں اور برتنوں تک کا انتظام کیا ہوا ہے جو شدید گرمی برداشت کرسکتے ہیں۔

تازہ پیزا پکانے کےلیے وہ آتش فشاں کے قریب ہی پیڑے بناتے ہیں اور انہیں خاص ٹرے میں پھیلا کر گرم سرخ لاوے پر جمی راکھ میں دس سے پندرہ منٹ کےلیے رکھ دیتے ہیں۔

تیار ہوجانے کے بعد وہ مقامی گاہکوں اور سیاحوں کو گرما گرم پیزا بھی وہیں پیش کرتے ہیں۔ ویسے تو اس پیزا کا باقاعدہ نام ’’پاکایا پیزا‘‘ ہے لیکن سوشل میڈیا پر یہ ’لاوا پیزا‘ اور ’وولکینو پیزا‘ (آتش فشانی پیزا) جیسے ناموں سے مشہور ہورہا ہے۔

گارسیا نے بتایا کہ وہ 2013ء سے مختلف آتش فشانی مقامات پر پیزا پکا رہے ہیں لیکن پہلے بہت کم لوگ اس طرف متوجہ ہوتے تھے اور یہ کاروبار بھی مندا چل رہا تھا۔

لیکن جب سے پاکایا آتش فشاں نے مسلسل لاوا اُگلنا شروع کیا ہے، تب سے انہیں ایک مستقل ٹھکانہ مل گیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر اس انوکھے پیزا کی شہرت نے بھی ان کے کاروبار کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔

آج نہ صرف نواحی علاقوں بلکہ دور دراز مقامات اور دوسرے ممالک سے بھی سیاح وہاں آنے لگے ہیں۔

لاوے پر پکنے کے علاوہ، یہ پیزا بہت ذائقے دار بھی ہے جو گارسیا کے ہنر کا ثبوت ہے۔ تاہم اکیلے کام کرنے کی وجہ سے وہ اب بھی محدود تعداد میں ہی پیزا بنا کر فروخت کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو