کیوب ہاؤسز خوبصورتی اور حیرت سمیٹی عمارات

یہ مقام یورپ کے مشہور ملک نیدرلینڈ (جسے ہالینڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) کے دوسرے بڑے شہر روٹرڈیم میں واقع ایک ہاؤسنگ اسکیم یعنی جدید طرز پر بنا ہوا ایک رہائشی منصوبہ ہے۔ دنیا اسے کیوب ہاؤسز کے نام سے جانتی ہے۔

2016ء کی سردیوں میں ہمارا یورپ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہماری رہائش ایبیس نامی ایک مشہور انٹرنیشنل ہوٹل چین میں تھی جو کہ شہر کے بیچوں بیچ شہر کے دوسرے بڑے اسٹیشن روٹرڈیم اسٹیشن بلیک

یہ مقام (Station BLaak) سے تین سے چار منٹ کی پیدل دوری پر واقع ہے۔ اس جگہ اور بھی کئی مشہور اور قابل ذکر تفریحی مقامات موجود ہیں۔ اسٹیشن بلیک پر کھڑے ہو کر اگر دیکھا جائے تو الٹے ہاتھ پر کیوب ہاؤسز، سیدھے ہاتھ پر مارکتھل (مارکٹ ہال) اور سیدھے ہاتھ پر ہی سامنے کی طرف ہوٹل ایبیس واقع ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے ایک چھوٹی سڑک پار کرکے گلیارے نما والک وے سے گزرنا پڑتا ہے۔

جیسا کہ آپ تصویروں میں دیکھ سکتے ہیں، کیوب ہاؤسز درحقیقت کیوب یعنی مکعب کی شکل میں بنے ہوئے جدید قسم کے گھر ہیں جو کہ نیدرلینڈ کے دو مختلف شہروں روٹرڈیم اور ہیلمونڈ میں بنائے گئے۔ ان گھروں کو تشکیل دینے والا ڈچ آ رکیٹیک پڈ بلوم (Piet Blom) ہے، جس نے اپنے اسی تعمیراتی پراجیکٹ سے بہت شہرت پائی۔

کیوب ہاؤسز کو بنانے کا مقصد کم جگہ میں بہترین شہری سہولیات کے ساتھ رہائشی طرز کو متعارف کروانا تھا۔ بلوم کے تصوراتی اسٹرکچر کے مطابق اس نے کیوبز یعنی مکعب کو 45 ڈگری کے اینگل پر ہیکزاگونل کالمز (Hexagonal Pylon) کے اوپر تشکیل دیا (یہاں یہ بتانا لازم ہے کہ اسٹرکچرل انجینئرنگ کی رو سے کالم کسی بھی اسٹرکچر کا وہ عنصر ہوتا ہے جو کہ بھاری وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

آ پ نے اکثر گھروں کے تعمیراتی دورانیے میں سنا ہو گا کہ کالم کے اوپر چھت پڑنی ہے۔ اس کالم کا یہی مقصد کیوب ہاؤسز میں بھی رہا۔ پائلون ایک قسم کا کالم ہی ہوتا ہے جسے خوب صورتی یا ڈیکوریشن کے لیے استعمال کیا جائے یا کہیں اندر جانے کا راستہ فراہم کرنے کے لیے بنایا جائے۔

ہیلمونڈ میں پہلے 1974ء میں تجرباتی طور پر یہ گھر تعمیر کیے گئے ، جس جگہ پر یہ بنائے گئے اسے آرکیٹیکٹ کے اعزاز میں ”پڈ بلوم اسکوائر” کہا گیا۔ ہیلمونڈ میں کام یابی کے بعد روٹرڈیم میں یہی منصوبہ کوئی 40 گھروں کی شکل میں بنایا گیا، جن میں سے 38 کو اسمال کیوبز اور 2 کو سوپر کیوبز کا نام دیا گیا، کیوںکہ یہ اپنی طرز کا ایک نرالا شاہ کار ہے اس لیے سیاحوں اور تعمیرات میں دل چسپی رکھنے والوں کے لیے ایک سوپر کیوب کو باقاعدہ گھر کے طور پر فرنش کرکے آ نے جانے والوں کو دکھانے کے لیے رکھا گیا۔

ہر گھر میں 3 منزلیں ہیں۔ زمینی منزل جہاں سے گھر میں داخل ہوں ، پہلی منزل لونگ روم اور باورچی خانے کے لیے مختص، دوسری منزل پر بیڈ روم اور بیت الخلاء، چھت یا سب سے اوپری منزل۔ 2009 میں مشہور یورپین ہوسٹل چین نے سوپر کیوبز کو ہوسٹل میں تبدیل کردیا۔ پڈ بلوم کے تخیل کو سراہتے ہوئے کینیڈا کے دو آرکیٹیکٹس نے بھی 1996 میں یہی اسٹرکچر ایسٹرن ایوینو میں 3 کیوب ہاؤسز کی شکل میں تشکیل دیے جن کی زمین بعد ازاں 2018 میں فروخت کردی گئی۔ اس امید کے ساتھ کہ ان اسٹرکچرل ہاؤسز کو کہیں محفوظ طریقے سے منتقل کردیا جائے گا۔

جب ہم نے انہیں پہلی بار دور سے دیکھا تو بھورے اور پیلے رنگ کے خوب صورت امتزاج میں ایسا لگا کہ گویا کسی نے بہت سارے ڈبوں کو بڑی ترتیب سے لڑکھڑاتی ہوئی حالت میں ہوا میں معلق کردیا ہو اور ابھی دیکھتے ہی دیکھتے یہ سارے ایک ایک کرکے پلٹ کے گر جائیں گے۔ ساتھ ہی ایک بھورے رنگ کا چومکھی مجسمے نما ٹاور شان سے کھڑا تھا اور اس کے ساتھ بنی نسبتاً چھوٹی عمارت سے نکلنے والے پیلے رنگ کے بڑے بڑے پائپ (جو شاید سیوریج یا یوٹیلیٹیز کے رہے ہوں گے) اس جگہ کی رنگینی کو مزید چار چاند لگا رہے تھے۔

اسٹیشن سے ذرا پہلے ایک سفید رنگ کا ٹرس (میٹل کی بنی ہوئی گولائی میں لگی آ رچ جو تصویروں میں بھی واضح ہے) لگا ہے اور اس کے بلکل پیچھے کیوب ہاؤسز کے ماتھے پر آ پ پرانے زمانے کی قد آ دم گھڑی بھی دیکھ سکتے ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی گزرنے والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لیتی ہے۔ الغرض اس جگہ کا اپنا ایک عجیب حسن ہے۔ ان گھروں کی بناوٹ کی مزید تیکنیکی تفصیلات انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ اپنے اندر حُسن اور حیرت سمیٹے یہ عمارتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو