کووڈ 19 کا مرض دماغ کو کئی برس بوڑھا کرسکتا ہے

کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد بھی کئی برس تک دماغی کیفیت متاثر رہ سکتی ہے اور یوں اس کا حملہ دماغ کو آپ کی حقیقی عمر کے مقابلے میں 10 سال بوڑھا کرسکتا ہے۔ بلکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صحتیاب ہونے کے باوجود کورونا وائرس دماغی افعال پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔

اس ضمن میں امپیریئل کالج لندن نے کورونا سے صحتیاب ہونے والے 84 ہزار مریضوں کا جائزہ لیا ہے لیکن یہ مطالعہ ابھی تک کسی تحقیقی جرنل میں شائع نہیں ہوا ہے۔ تاہم کالج سے وابستہ سائنسداں پروفیسر ایڈم ہیمپشائر کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ کورونا وائرس مریضوں کی ذہنی و دماغی کیفیت کو متاثر کرتا ہے اور طویل عرصے تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔

اسی مقالے میں کہا گیا ہے کہ مرض سے صحتیاب ہونے والے مریضوں میں اکستابی کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے ایک ذہانت کا ٹیسٹ کیا گیا جسے ’گریٹ برٹش انٹیلی جینٹ ٹیسٹ ‘ کہا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ سے الزائیمر جیسی بیماریوں کو بھی پکڑا جاتا ہے اور اس میں انہیں کوئی معمہ حل کرنے کو کہتے ہیں۔

اس مطالعے کے نتائج پر دیگر اسکالروں نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں نیورولوجی پروفیسر مسعود حسین کہتے ہیں کہ کووڈ 19 سے دماغ متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ تاہم ایڈنبرا یونیورسٹی میں دماغی عکس نگاری کی ماہر کا خیال ہے کہ یہ اثرات عارضی ہوسکتے ہیں اور مریض وقت کے ساتھ ساتھ نارمل ہوجائے گا۔

تاہم ان تمام مریضوں کی کووڈ 19 سے متاثر ہونے سے پہلے کی دماغی کیفیت کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہوسکا اور تحقیق میں یہی ایک کمی رہ گئی ہے۔

دماغی دھند

دوسری جانب ایک الگ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا سے متاثرہ عمررسیدہ مریضوں میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب بعض مریضوں میں توجہ کی کمی، دماغی وہم، نسیان اور دیگر عوارض دیکھے گئے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ بعض مریضوں میں کووڈ 19 کے بعد دماغی سوجن بھی دیکھی گئی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو