کورونا ویکسین کی آزمائش کے دوران دو افراد کا انتقال ہوا، امریکی ڈرگ اتھارٹی

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) کا کہنا ہے کہ امریکا میں جاری فائزر ویکسین کی آزمائش کے دوران ویکسین کے استعمال سے 2 افراد کی موت ہوئی ہے۔

ایف ڈی اے کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق فائزر اور بائیو این ٹیک کے اشتراک سے تیار کی گئی ویکسین کی اپریل سے نومبر تک ہونے والی آزمائش کے دوران 38 ہزار سے زائد افراد ٹرائلز میں شریک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران ایک پچپن سالہ شخص کوکورونا ویکسین دینےکے 62 روز بعد ہارٹ اٹیک آیا اور تین روز بعد اس کی موت ہوگئی جب کہ دوسرے شخص کی موت ویکسینیشن کے تین روز بعد دل کی شریانیں سُکڑنے سے ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ٹرائلز کے دوران 4 اموات ان افراد کی بھی ہوئیں جنہیں ویکسین کا بتا کر بے اثر ٹیکا لگایا گیا تھا۔

ایف ڈی اے کاکہنا ہےکہ تیسرے مرحلے کے ٹرائلز کے نتائج کے مطابق 94 فیصد افراد میں یہ ویکسین کورونا کو روکنے میں معاون رہی ہے۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے مطابق کمزور قوت مدافعت، حاملہ خواتین اور 16 سال سے کم عمر بچوں میں فائزر ویکسین کے محفوظ استعمال پر ابھی تحقیق ہونا باقی ہے۔

ایف ڈی اے کی جانب سے رپورٹ میں ابتدائی طور پر ویکسین کے عام استعمال کی منظوری کی حمایت کی گئی ہے تاہم اس کی اجازت دینے کے لیے آج ایف ڈی اے کی ایڈاوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں اس کی حتمی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ یہ ویکسین امریکی دواساز ادارے فائزر نے جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے اشتراک سے بنائی ہے اور برطانیہ میں اس کا استعمال شروع بھی کردیا گیا ہے۔

گذشتہ روز برطانیہ میں دواؤں اور طبی آلات کے معیار پر نظر رکھنے والے ادارے ‘میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹ ریگولیٹری ایجنسی’ نے الرجی کا شکار افرادکو فائزر کی کورونا ویکسین لگانے سے روک دیا تھا۔

ادارے کی جانب سے یہ ہدایات ایک روز قبل ہی ویکسین لگوانے والوں میں سے دو افراد پر الرجک ری ایکشن آنے کے بعد جاری کی گئی تھیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو