کورونا سے یورپی ممالک بری طرح متاثر، ترکی میں کیسز میں ہوشربا اضافہ

عالمگیر وبا کورونا کے باعث دنیا بھر میں کیسز اور ہلاکتوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا.

امریکی جونز ہاپکنز ہونیورسٹی کے نئے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں مریضوں کی تعداد 7 لاکھ 92 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور اموات کی تعداد 42 ہزار 518 گئی ہے۔

امریکا میں کورونا وائرس کی بدترین صورتحال کے پیش نظر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کیلئے امیگریشن عارضی طور پر معطل کردیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کے لیے امیگریشن عارضی معطل کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کروں گا. جس کا مقصد امریکیوں کی ملازمت کا تحفظ کرناہے. کیونکہ کورونا وائرس کے باعث امریکا میں 2کروڑ 20لاکھ افراد بےروزگار ہوچکے ہیں۔

ترکی میں کیسز میں تیزی سے اضافہ

ترکی میں گزشتہ ہفتے سے کورونا کیسز میں ہوشربا دیکھنے کو آرہا ہے جس کے بعد اس نے اپنے پڑوسی ملک ایران کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی میں اموات کی تعداد 2140 ہوگئی ہے جب کہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ پہنچ گئی ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر ترک صدر رجب طیب اردوان نے 4 دن کیلئے 31 صوبوں میں کرفیو نافذ کرنے کا حکم دیا ہے جس کا اطلاق 23 اپریل سے ہوگا اور 26 اپریل کی شب کو ختم ہوگا۔

ترک میڈیا کے مطابق 23 اپریل کو ترکی میں قومی خودمختاری اور بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاہم کورونا کے باعث اس دوران کرفیو کی وجہ سے دن کی مناسبت پر تقریبات نہیں ہوں گی۔

ادھر یورپی ممالک اسپین، اٹلی، فرانس اور جرمنی میں بھی کیسز سمیت مزید ہلاکتیں رپورٹ ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

اسپین، اٹلی، فرانس اور برطانیہ کی صورتحال

اسپین میں اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر اور 20 ہزار سے زائد مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ اٹلی میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ کے قریب ہے اور اموات کی تعداد 24 ہزار 114 ہے۔

اسی طرح فرانس میں متاثرین کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے اور 20265 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ جرمنی میں اموات کی تعداد دیگر یورپی ممالک سے کم ہے مگر کیسز کی تعداد ایک لاکھ 47 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔

برطانیہ میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک 124509ہوچکی ہے جب کہ 16509 مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

دوسری جانب کورونا کے ابتدائی شکار ملک چین پر امریکا کی جانب سے وائرس کے پھیلاؤ کے الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے جس کی وہ بار بار تردید کر رہا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوآنگ نے پریس بریفنگ میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین مجرم نہیں بلکہ خود کورونا وائرس کا شکار ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ وائرس انسانیت کا مشترکہ دشمن ہے اور یہ کہیں بھی حملہ کرسکتا ہے، ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے مل کر کام کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

خیال رہےکہ چین میں اب کورونا پر قابو پالیا گیا ہے اور وہاں معمولات زندگی بھی بحال ہورہے ہیں۔ چین سے اب تک کیسز کی تعداد 82 ہزار 758 رپورٹ کی گئی ہے اور اموات 4 ہزار 632 ہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا لاک ڈاؤن میں نرمی برتی جارہی ہے اور کاروبار جزوی طور پر بحال کیے جا رہے ہیں جس پر عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق برا وقت ابھی آئے گا کیونکہ کئی ممالک نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔

واضح رہے کہ مہلک کورونا وائرس دنیا کے 200 سے زائد ممالک اور جزائر تک پھیل چکا ہے اور عالمگیر وبا سے اب تک 24 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جس میں سے 6 لاکھ 52ہزار 761افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں جب کہ اموات کی کل تعداد ایک لاکھ 70 ہزار 501 ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو