کورونا اور انسان کی جنگ، فتح کسے ملے گی؟

چین، جنوبی کوریا، جاپان اور سنگاپور سمیت کئی ممالک نے کورونا پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے —فوٹو بشکریہ میڈیکس

وائٹ ہاؤس میں براجمان بزنس مین صدر اپنے ملک کے نامور ترین وائرولوجسٹ سے اسی طرح پیش آرہا ہے جیسے خود کو عقل کل سمجھنے والا شہنشاہ، عاقل ترین مشیر کو کاموں میں کیڑے نکالنے والا سمجھ کر دھتکار دیتا ہے، نتیجہ نیویارک پر نظر ڈالنے ہی سے واضح ہے۔

اس ریاست میں کورونا سے اموات کی تعداد کم ہو کر بھی روزانہ پانچ سو کی سطح پر برقرار ہے اور مجموعی تعداد سترہ ہزار تک جا پہنچی ہے۔ یہی نہیں ڈھائی لاکھ افراد بیمار بھی ہیں۔ اور یہ بھی اصل تعداد نہیں کیونکہ ہزاروں افراد ایسے ہیں جو کورونا ٹیسٹ کرائے بیٹھے ہیں۔ کورونا ٹیسٹ نتائج کے منتظر افراد بیماری مزید پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔

نیویارک ان صدر ٹرمپ کی ریاست ہے، جن کی منتیں کی گئیں تب بھی ناک بھونوں چڑھا کر ہی انہوں نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا اور پھر اوتاولے ہوگئے کہ 12 اپریل کو ایسٹر سنڈے کے موقع پر ملک کو کاروبار کےلیے کھول کر رہیں گے۔ وہ اپنے طور پر یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ کورونا اس حریف ہیلری کلنٹن کی طرح ہے جسے وہ انتہائی گری ہوئی زبان استعمال کرکے ہرا دیں گے یا ڈرا دیں گے۔

اس نوعیت کی غفلت کا بھگتان پوری قوم کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ جس ریاست نے ٹرمپ کو اوول آفس تک پہنچایا، اب وہاں ہلاکتوں کی تعداد امریکا بھر کی ہلاکتوں کا نصف فیصد تک جا پہنچی ہے۔ بھلا ہو ری پبلکن سینیٹر لنزی گراہم کا جنہوں نے گالف میں لگا کر ٹرمپ کو سمجھا بجھا لیا کہ لاک ڈاون اٹھایا تو ملک میں کورونا سے اتنے جنازے اٹھیں گے کہ دوبارہ منتخب ہونا تو دور کی بات، وائٹ ہاؤس دیکھنے کے لالے پڑجائیں گے۔

لنزی گراہم کی طرح ٹرمپ اپنے مشیر ڈاکٹرفاؤچی کی باتوں پربھی کان دھرتے تو شاید نیویارک شہر میں اتنی میتیں نہ ہوتیں کہ لوگ گیارہ ستمبر کا سانحہ بھول جاتے

اب دو کھرب ڈالر سے زیادہ کا بیل آوٹ بھی ملکی اسٹاک مارکیٹ کو سہارا نہیں دے پارہا۔ بڑے کاروباری حلقے کروڑوں ڈالر لے کر بھی ملازمین کو نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور مزید رقم بٹورنے کے چکر میں ہیں۔ جبکہ اقتدار پر پھر سے براجمان ہونے کے خواہش مند ٹرمپ، سٹپٹائے پھر رہے ہیں، کبھی چین کو لتاڑتے ہیں تو کبھی عالمی ادارہ صحت کے گلے پڑتے ہیں، جس نے کورونا کےلیے انکی مرضی کا لفظ وبا استعمال کرنے میں دیر کردی۔

وبا پھیلانے والا یہ کورونا ایک زرہ ہے جسے وائرس کہتے ہیں۔ جیسے انسان کا ہر عضو خلیوں سے مل کر بنتا ہے، اس لحاظ سے دیکھیں تو وائرس ہمارے ایک خلیے سے سو گنا چھوٹا ہوتا ہے۔ کورونا وائرس ہی کی مختلف اقسام سے مرس اور سارس جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں تاہم کورونا کی جو قسم کوویڈ نائنٹین بیماری کا سبب بن رہی ہے اس کے بارے میں 2019ء تک لوگوں کو علم نہیں تھا۔ چین کے شہر ووہان سے یہ بیماری پوری دنیا میں پھیل جائے گی اس کا تو تصور بھی محال تھا۔

یہ درست ہے کہ کورونا کا شکار زیادہ تر افراد میں نظام تنفس کی بیماریوں کی کم یا درمیانے درجے کی علامات نمودار ہوتی ہیں اور وہ بغیر خصوصی علاج کے صحت یاب بھی ہوجاتے ہیں ۔ مگر یہ بھی حقیقیت ہے کہ ہرجنس اورعمر کے روزانہ ہزاوں افراد ہلاک ہورہے ہیں۔ وائرس کیخلاف اینٹی بائیوٹک نہیں دی جاتی۔ اسی لیے دنیا کی صف اول کی ادویہ ساز کمپنیوں کی کوشش ہے کہ وہ کورونا سے بچاو کی ویسی ہی ویکسین بنا لیں جیسی وائرس سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں مسئلہ پولیو کو ہونے سے روکنے کیلئے دی جاتی ہے۔

کووڈ 19 پیدا کرنے والا یہ وائرس عام طور پر بہتی ناک، تھوک یا چھینکوں اور کھانسی سے نکلنے والے پانی کے زرات کے زریعے فضا میں آتا ہے اور کئی میٹرز تک پھیل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے مریضوں کے زیر استعمال اورقریب رکھی چیزوں پر بھی یہ موجود ہوسکتا ہے۔ مریضوں کاعلاج کرنیوالے ڈاکٹر اور دیگر طبی عملے کو اسی لیے ایسا لباس پہننا ضروری ہے جو انہیں اس ننھے ترین مہلک زرے سے بچاسکے۔

کورونا کے مہلک ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہےکہ وائرس ہونے کی وجہ سے یہ بے جان چیز پر بے جان رہتا ہے اور جاندار میں داخل ہو توپھر اسکے خلیوں کو یرغمال بنا کر زندہ شے کی طرح فعال ہوجاتا ہے۔

فرانسیسی سائنسدانوں کے مطابق اگر اس وائرس کو ساٹھ ڈگری سینٹی گریڈ پر ایک گھنٹے تپش دی جائے تو اس کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا، اسے ختم کرنے کے لیے بانوے ڈگری سینٹی گریڈ پر پندرہ منٹ تک تپش دینا ضروری ہے۔یہ بات ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جو سمجھتے ہیں کہ گرمی بڑھتے ہی کورونا چھومنتر ہو کر کوہ قاف کی پہاڑیوں کے پیچھے دبک کر بیٹھ جائے گا۔

یہ بھیس بدل کر حملہ کرنے والا وائرس بھی ہے۔ عام طور پرجب وائرس انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو اسے ختم کرنے کے لیے مدافعتی نظام فوری حرکت میں آتا ہے، کورونا ایسا وائرس ہے کہ اپنی ہیئت اس طرح بدلتا ہے کہ انسانی جسم اسے پہچان ہی نہیں پاتا۔ یعنی یہ اس فوجی کی مانند ہے جو اپنی وردی اورچہرے کو ماحول میں ایسا رنگ لیتا ہے کہ دشمن کو اسکی موجودگی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب بندوق کی سنگین سینے کے پار ہوجاتی ہے۔

کورونا کو ختم کرنے یا محدود کرنے کا بہترین طریقہ ان لوگوں سے سماجی فاصلہ ہے جو اس وائرس سے بیمار ہورہے ہیں۔ یہ وائرس بیماروں کے جسموں تک محدود رہا تو مریضوں میں اینٹی باڈیز بن جائیں گی جو وائرس کو ختم کردیں گی۔ اگر مناسب اینٹی باڈیز نہ بنیں تو بیماروں کو بعض تجرباتی دوائیں دے کر زندہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ جسم کو مدافعت پیدا کرنے کا وقت مل سکے۔ آخری صورت یہ کہ وائرس ان بیماروں کو ہلاک کرکے ان کے ساتھ قبروں میں دفن ہوجائے گا۔

لاپرواہی برتی جائے تو کورونا انسان کو ماردے گا کیونکہ وائرس کو ایک سے دو اور دو سے چار ہونے کے لیے کسی انسان یا جانور کا خلیہ درکار ہوتا ہے، لاپرواہ شخص آ بیل مجھے مار کے مصداق اس مہلک وائرس کو اپنے اندر گھر کرنے، پھلنے پھولنے اور پھیپھڑوں کو تباہ کرنے کا موقع دیتا ہے، جو بلآخرمریض کے انتقال کی صورت میں نکلتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اٹلی ہو یا اسپین، جرمنی ہو یا فرانس اوربرطانیہ ہو یا امریکا ہر ملک کا طبی عملہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہے اور لوگوں کے پاؤں پڑنے کو تیار ہے کہ خدارا گھر سے مت نکلو، دکانیں سجا کر اپنی اور اپنے عزیزوں کی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی حالت پربھی ترس کھاو، کیونکہ ترقی یافتہ ترین ممالک کا نظام صحت بھی اس وبا کے سامنے ڈھیر ہوچکا ہے۔

ایسے میں صدرٹرمپ امریکا کو بزنس کے لیے کھولنے کا اعلان کریں اور ڈیموکریٹس اس اقدام کو لوگوں کی جان سے کھیلنے کے مترادف قرار دیں تواپوزیشن کی بات میں وزن نظر آتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی مشکل یہ بھی ہے کہ انہیں چھ ماہ بعد الیکشن کا سامنا ہے۔ لاک ڈاون برقرار رہتا ہے تو کساد بازاری کا شکار معیشت کا بیڑا اور غرق ہوگا جبکہ ملک کھولتے ہیں تو اموات کا خطرہ سر پہ منڈلاتا رہے گا۔

پاکستانی وزیراعظم کی کم سے کم یہ مجبوری نہیں. حزب اختلاف پیپلزپارٹی ہو یا ن لیگ، لاک ڈاؤن کا نہ صرف مطالبہ کررہی ہیں بلکہ ان کے نزدیک گنجان آباد شہریوں یا صحت کی سہولتوں سے عاری دیہی علاقوں میں کورونا کو پھیلنے سے روکنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

پڑوسی اور مغربی ممالک میں کورونا کے واقعات سے سبق سیکھنے کے بجائے آنکھیں بند کرنے کا انجام قوم پہلے ہی سات ہزار سے زائد کیسز کی صورت میں بھگت رہی ہے۔

سائنسی سوچ پر عمل اور ٹھوس اقدامات کرنے والے چین، جنوبی کوریا، جاپان اور سنگاپور سمیت کئی ممالک نے کورونا پر بڑی حد تک قابو پا کر یہ ثابت کیا ہے کہ کورنا تمام انسانوں کو نہیں مارے گا، انسان ہی کورونا پر فتح مند ہوگا۔ لیکن دنیا میں کورونا سے بائیس لاکھ بیمار اور ڈیڑھ لاکھ اموات اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سرچھپا کر خطرہ ٹلنے کا انتظار کرنا، دانش مندی نہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو