کورونا، مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے اس سال قربانی میں 9 فیصد کمی

کورونا وبا کے باعث آمدنی گزشتہ چھ ماہ کے دوران کم ہونے سمیت بیروزگاری کی وجہ سے رواں سال عیدالاضحی کے موقع پر گزشتہ سال کی نسبت 9 فیصد کم قربانی کی گئی۔

عالمی وبا کورونا کے باعث آمدن میں کمی اور بیروزگاری بڑھنے کی وجہ سے رواں سال عیدالاضحی کے موقع پر گزشتہ سال کی نسبت 9 فیصد کم قربانی کی گئی۔ ملک میں مجموعی طور پر 73 لاکھ مویشیوں کی قربانی ہوئی جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 80 لاکھ تھی۔ رواں سال عیدالاضحی کے موقع پر 28 لاکھ گائے بیل، 36 لاکھ بکرے، 8 لاکھ دمبے/بھیڑ اور 1 لاکھ اونٹ قربانی کیے گئے۔

پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے نمائندے گلزار فیروز نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں چمڑے کی ڈیمانڈ کم ہونے سے ملک میں رواں سال عید سیزن میں کھالوں کی قیمتیں بھی 20 تا 46 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال گائے بیل کی کھال کی قیمت 700 تا 800 روپے ہے۔ بکرے کی فی کھال کی قیمت 150 روپے، دمبے یا بھیڑ کی فی کھال کی قیمت 80 روپے جبکہ اونٹ کی فی کھال کی قیمت 400 روپے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا، یورپ، چین سمیت دنیا کے دیگر میں لیدر فیشن اور لیدر شوز کا رحجان محدود ہونے سے دنیا بھر میں لیدر کی ڈیمانڈ میں 50 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ دنیا بھر کے نوجوان اب فیبرک جوگرز اور ٹیکسٹائل جوگرز کے استعمال کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وبا 6 ماہ سے ذرائع آمدن متاثر ہونے سے رواں سال کھالوں کا کاروبار 2 ارب روپے گھٹ گیا ہے۔ گزشتہ عیدالاضحی کے سیزن میں 5 ارب روپے مالیت کے کھالوں کا کاروبار ہوا تھا جبکہ اس سال صرف 3 ارب روپے کا کاروبار ہوا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو