کمپی ٹیشن کمیشن کے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے دفاتر پر چھاپے، ریکارڈ قبضے میں کرلیا

حریفوں کو حساس تجارتی اور کاروباری معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں، حکام (فوٹو : فائل)

حریفوں کو حساس تجارتی اور کاروباری معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں، حکام (فوٹو : فائل)

اسلام آباد: کمپی ٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے لاہور اور اسلام آباد کے دفاتر پر چھاپے مار کر اہم ریکارڈ قبضے میں کرلیا۔

سی سی پی نے کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے ٹھوس معلومات کی بنیاد پر کمپٹیشن ایکٹ (2010ء) کی دفعہ 34 کے تحت اپنے افسران کو پی ایس ایم اے کے دفاتر کی تلاشی اور اہم ریکارڈ کے معائنے کا اختیار دیا ہے۔ چند اہم کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں میں شامل تمام شوگر ملوں کا ایک ساتھ کرشنگ کا 2019-20ء کے سیزن میں روکنا، اجتماعی طور پر چینی کی قیمتوں میں ایک ساتھ اضافہ کرنا اور یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن (یو ایس سی) کو چینی فراہمی سے ایک ساتھ انکار کرنا ہے۔

کمیشن کی مجاز کردہ دو مختلف ٹیموں نے بیک وقت پی ایس ایم اے کے اسلام آباد اور لاہور کے دفاتر میں تلاشی لی اور متعلقہ ریکارڈ کو قبضے میں لیا۔ سی سی پی اپنے مختلف انفورسمنٹ آرڈرز کے ذریعے متعلقہ صنعت کی انجمنوں کو غیرمسابقتی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متنبہ کرتا رہا ہے جس سے کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔

سی سی پی کے مطابق ایک طے شدہ اصول یہ ہے کہ صنعتی انجمنوں اور اس کے ممبران، جو دراصل حریف ہیں انہیں جان بوجھ کر حساس تجارتی اور کاروباری معلومات پر تبادلہ خیال کرنے یا انہیں آپس میں شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ صنعتی انجمنوں اور اس کے ممبران کی کاروباری پالیسی میں ہم آہنگی کرنا اور اہم کاروباری معلوما ت آپس میں شیئر کرنا کمپٹیشن ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے.

سی سی پی معیشت کے تمام شعبوں میں کمپٹیشن مخالف تمام سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو