ڈیگو: جادوئی میدانوں کا فسوں گر

میرا ڈونا ۔۔۔ وہ جس کے پیروں کی رگڑ سے فتح کا جن برآمد ہوتا تھا،جو ایک فسوں گر تھا، جو تنازعات اور طلسم کے مابین سانس لیتا تھا۔ بالآخر چلا گیا۔

میراڈونا کی موت ، ایک نسبتاً متوقع موت تھی۔ وہ 60سال جی چکا تھا، نشے کی لت، صحت کے مسائل، اور ایک بے ربط زندگی؛ وہ کسی بھی وقت رخصت ہوسکتا تھا۔وہ اپنا کردار ادا کرکے میدان سے باہر جاچکا تھا۔ البتہ جب وہ رخصت ہوا، تو دنیائے فٹ بال کا دامن آنسوؤں سے تر ہوگیا۔

ورلڈ کپ ہر چار برس بعد ہوتا ہے، مگر میرے لیے اب تک تین ہی ورلڈ کپ ہوئے ہیں۔ ان میں پہلا 1986ء کا فیفا ورلڈ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب میں کم سن تھا، موت اور زندگی کی تصور سے لاعلم اور یہ خیال کرتا تھا کہ دنیا میں صرف ایک فٹ بالر ہے۔ 1990ء آتے آتے دھند چھٹنے لگی۔ یہی وہ برس تھا، جب میرے ذہن نے کچھ کھو دینے کا اولین تجربہ کیا۔ 1986ء کے مانند ایک بار پھر، ورلڈ کپ فائنل میں ارجنٹینا اور جرمنی آمنے سامنے تھے۔ شاید ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ دو ٹیموں نے لگاتار ورلڈ کپ فائنل کھیلا ہو۔

وہ ایک ظالمانہ اور پرتشدد فائنل تھا یا شاید اپنی کمی سنی کے باعث مجھے ایسا لگا ہو، مگر ماہرین بھی اُسے ایک تلخ مقابلہ قرار دیتے ہیں۔ پے درپے فاؤل،چوٹیں، جھگڑے۔ ارجنٹینا کے دو کھلاڑیوں کو باہر کا راستہ دکھایا گیا۔ ایک متنازعی پینالٹی۔ جرمنی نے گول داغ دیا۔ کھیل تمام ہوا۔ میرا ڈونا اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ نہ جتوا سکا۔

ایک اداسی سی اداسی تھی۔ میں نے ارجنٹینا کے باسیوں کے ساتھ گریہ کیا۔ اس غم نے عشق کو گہرائی اور وسعت دی۔ اب میرا عشق ڈیگو سے نکل کر ارجنٹینا تک پھیل گیا تھا۔ آنے والے ہر اہم مقابلے میں (اور غیراہم مقابلوں میں بھی) سفید اور ہلکی نیلی پٹیوں والی ارجنٹینا کی جرسی میرا عشق ٹھہری۔ صرف ڈیگو کی وجہ سے میں نے Gabriel Batistuta سے(جو اپنے عہد کاایک عظیم فٹ بالر تھا، جس کے ارجنٹینا کے لیے بنائے جانے والے ریکارڈز کو توڑنے کے لیے میسی کو میدان میں آنا پڑا، جو دو ورلڈ کپ مقابلوں میں ہیٹ ٹرک کرنے والا تنہا سورما ہے) محبت کی ۔ یہ ڈیگو ہی تھا، جس کی وجہ سے ہم نےClaudio Caniggia اور Riquelmeکو تجسس اور توجہ سے دیکھا۔اور پھرمیراڈونا ہی کی وجہ سے لائنل میسی سے وہ محبت کی، جس کا وہ حق دار تھا۔

یاد رہے؛ یہ میرا ڈونا ہی تھا، جس نے اوائل میں ہر پلیٹ فورم پر میسی کی صلاحیتوں کا چرچا کیا، اُسے سراہا اور دنیا کو یہ خبر دی کہ ارجنٹینا میں ایک اور میراڈونا کا جنم ہوا ہے، ایک اورفسوں گر، جس کے جوتوں کی رگڑ سے فتح کا جن برآمد ہوگا۔

میرا ڈونا اور میسی میں حیران کن مماثلت تھی۔ چھوٹا قد، گٹھا ہوا جسم، بلا کی پھرتی، انفرادی مظاہرے کی للک، Dribbling کی حسین صلاحیت،’’ہیڈ ‘‘کو بہ طور ہتھیار استعمال نہ کرنے کے باوجود نمایاں ترین کھلاڑی بن کر ابھرنا۔ البتہ ایک واضح فرق ہے۔ میسی اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ نہیں جتوا سکا۔ گو 2014ء کے ورلڈ کپ فائنل میں وہ اُس کے بے حد قریب پہنچ گیا تھا، مگر منزل سے کچھ دور قسمت نے جرمنی کے حق میں فیصلہ لکھ دیا اور یوں میسی عظمت کی دوڑ میں میراڈونا سے بہت پیچھے رہ گیا۔

اچھا، میسی اور میراڈونا میں کچھ اختلافات بھی رہے۔ یہی معاملہ پیلے کا بھی رہا،بالخصوص صدی کے عظیم ترین کھلاڑی کے مقابلے میں۔ مگر جب ڈیگو رخصت ہوا، توپیلے اور میسی، دونوں نے اس پر عقیدت اور محبت کے پھول نچھار کیے۔ دنیا کے دیگر عظیم فٹ بالرز نے بھی ایسا ہی کیا۔ ڈیگو میراڈونا کو ویسا ہی خراج تحسین پیش کیا گیا، جیسا اس کا حق تھا۔ جنازے میں چاہنے والے امڈ آئے۔ وہ غم سے نڈھال تھے۔ اور اسے یاد کرکے آنسو بہاتے تھے۔

بے شک ڈیگو جسمانی طور پر چلا گیا، مگر اپنی یادیں چھوڑ گیا ۔ہمارے لیے وہ حسین لمحات چھوڑ گیا، جنھوںنے دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والوں کو فٹ بال کے کھیل کی سمت متوجہ کیا تھا۔ وہ اپنی شرارتیں اور لطیفوں کے ساتھ، اپنے تنازعات کے ساتھ اور اپنی بے پناہ صلاحیت کے ساتھ، ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ایک مداح نے کیا خوب کہا: وہ مر گیا، تاکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جی سکے۔

یہ سچ ہی تو ہے، جب تک فٹ بال زندہ ہے، میراڈونا زندہ رہے گا۔ اس کی زندگی، فٹ بال کی زندگی سے جڑی ہے، فٹ بال جو ایک عالمی زبان ہے۔

ایک طویل زندگی کا مختصر احوال
ارجنٹیناسے تعلق رکھنے والے دُنیا کے عظیم فٹ بالر، ڈیاگو ارمانڈو میرا ڈونا 30 اکتوبر 1960ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا شمار فٹ بال کی تاریخ کے متنازع ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ ان کے ریکارڈز بے پناہ اور ناقابل بیان ہیں۔

انہوں نے فٹ بال کلبس بوکا جونیئرز، ایف سی بارسلونا اور ایس ایس سی ناپولی کی نمائندگی کی اورمتعدد اعزازات حاصل کیے۔ ارجنٹیناکی جانب سے 91 عالمی مقابلوں میں جلوہ گر ہوئے۔ 34 گول داغے۔ کئی میچز میں اہم گول ان ہی کے مرہون منت تھے۔ 1982ء، 1986ء، 1990ء اور 1994ء کے فٹ بال کے عالمی کپس میں انھوں نے شرکت کی۔ 1986ء میں ارجنٹینا ان کی زیر قیادت فٹ بال کا عالمی چیمپئن بنا۔ انہیں ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔

1986ء کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ان کے کیے گئے دوسرے گول کو فیفا کی جانب سے کیے گئے آن لائن پول میں صدی کا بہترین گول قرار دیا گیا۔ 1990ء کے عالمی کپ میں ٹخنے کے زخم نے ان کی کارکردگی کو متاثر کیا، اس کے باوجود ارجنٹینا فائنل تک پہنچا، جس میں مغربی جرمنی نے کامیابی حاصل کی۔ 1991ء میں ڈوپنگ ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد انہیں 15 ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا، 1994ء کے عالمی کپ کے دوران بھی منشیات کے استعمال کے باعث پابندی کا شکار بنے۔

صحافیوں پر فائرنگ اور خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام بھی لگا۔ 30 اکتوبر 1997ء کو فٹ بال سے ریٹائر ہوئے۔ 2000ء میں ان کی سوانح حیات ’’میں ڈیاگو ہوں‘‘ (Yo Soy El Diego) شائع ہوئی، جو ارجنٹائن میں فروخت ہونے والی بہترین کتاب بنی۔

فیفا کے ’’صدی کے بہترین کھلاڑی‘‘ کے لیے کرائے گئے پول میں آپ 53.6 فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے۔ برازیل کے اعتراضات کے بعد فیفا نے فٹ بال ماہرین کی ایک کمیٹی مقرر کردی، جس نے پیلے کو صدی کا بہترین کھلاڑی قرار دیا۔ 2006ء میں اپنی قومی ٹیم کو بہ حیثیت کوچ عالمی کپ جتوانے میں ناکام رہے۔ 25 نومبر 2020ء کو، 60 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو