چین نے مریخ کے لیے اپنا پہلا آزاد تحقیقاتی مشن خلا میں روانہ کردیا

چین نے اپنا پہلا آزاد تحقیقاتی مریخ مشن تیان وین-1 خلا میں روانہ کر دیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے کسی بھی دوسرے سیارے پر بغیر پائلٹ کے اپنا پہلا آزاد مشن روانہ کردیا، چین کی جانب سے پہلا تحقیقاتی مشن ’تیان وین ون‘ مریخ پر روانہ کیا گیا جو چین کے صوبے ہینان کے جنوب میں واقع جزیرے میں وین چانگ اسپیس لاؤنچ سینٹر سے روانہ کیا گیا۔

قبل ازیں امریکا بھی ایسا ہی خلائی مشن بھیج چکا ہے، دونوں ممالک زمین اور مریخ ایک دوسرے کے نزدیک اور ایک سطح پر ہونے کے مختصر دورانیہ کا فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔ اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات بھی اپنا خلائی مشن روانہ کرچکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چین کا پہلا تحقیقاتی مشن ممکنہ طور پر اگلے سال فروری میں مریخ میں داخل ہوگا۔ جہاں وہ مریخ سے اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے 90 روز کے لیے روور تعینات کرنے کی کوشش کرے گا اور اگر تیان وین ون کامیاب ہوجاتا ہے تو چین اپنے ابتدائی مشن میں ہی مدار، اور مریخ پرروور تعینات کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔

جیسے جیسے تیار وین ون مریخ کے قریب پہنچنے پر ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور جیسے ہی یہ مشن مریخ کے قریب پہنچے گا اس کی رفتار کم کرنا بہت اہم ہوتا ہے اور اگر رفتار کم کرنے کا عمل کامیابی سے نہیں ہوپایا یا پھر سیارے کے قریب فلائٹ درست طریقے سے نہیں کام کرپائی تو مریخ پر تحقیقات کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق تیان وین 1 صوبے ہینان کے وین چانگ اسپیس لاؤنچ سینٹر سے روانہ کیا گیا۔ تیان وین 1 متوقع طور پر فروری 2021ء میں مریخ کے کثافتی دائرے میں داخل ہو گا۔

چینی میڈیا کا بتانا ہے کہ تیان وین 1 مریخ کی آربٹنگ، لینڈنگ، روونگ کرنے والا انسانی تاریخ کا پہلا سنگل مشن ہو گا۔

تیان وین 1 کے مشن کمانڈرز، ڈویلپرز کے مطابق مریخ تحقیقاتی مشن سے خلائی تحقیق میں چین کے نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل متحدہ عرب امارات نے بھی تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلا تحقیقاتی مشن سرخ سیارے کے نام سے مریخ پر روانہ کیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو