چیئرمین این ڈی ایم اے

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ کراچی کے نالوں کی بڑے پیمانے پر صفائی کا کام کل سے شروع کردیا جائے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل نے بتایا کہ وزیراعظم نے کراچی جاکر صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی جس پر کراچی پہنچا، جہاں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے 3 ملاقاتیں ہوئیں اور کور کمانڈر کی بھی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اور میئر کراچی وسیم اختر سے بھی ملاقاتیں ہوئیں.

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کراچی میں بارش سے ہونے والے نقصانات پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل سمجھنے کی ضرورت ہے، اس لیے موجودہ سیزن میں مسائل کے فوری حل کے اقدامات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی کے ندی نالوں پر تجاوزات بہت زیادہ اور سیوریج کا نظام درست نہیں، شہر میں روزانہ 20 ہزار ٹن سالڈ ویسٹ پیدا ہورہا ہے.

انہوں نے کہا کہ سیوریج اور برساتی پانی سمیت تجاوزات کے خاتمے کے اقدامات کرنے جا رہے ہیں، بڑے نالوں کی صفائی کے لیے ایف ڈبلیو او کو کام سونپا گیا ہے اور کل صبح تک شہرمیں بڑے پیمانے پر کام شروع ہو جائے گا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ 7 سے 9 اگست تک کراچی میں بارش کا امکان ہے تاہم ابھی فوری کوشش ہے کہ رواں سیزن کے آئندہ آنے والے برساتی سسٹم میں نقصان کم سے کم ہو، مسئلے کے مستقل حل کے لیے اسٹیک ہولڈرز کو بٹھانے کی ضرورت ہے.

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو فوری طور پر کراچی جانے کی ہدایت کی تھی اور انہیں بارشوں کے بعد کراچی کی صفائی کا ٹاسک دیا تھا.

چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹینٹ جنرل محمد افضل نے نیوز کانفرس میں کہا کہ کراچی میں بارشوں سے نقصانات پر افسوس ہے، کراچی کے بڑے نالے این ڈی ایم اے کو دیے گئے ہیں، کراچی میں 24 سے 26 اگست تک بارش کا سسٹم موجود رہے گا اور 7 سے 9 اگست تک کراچی میں بارش کا امکان ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ کراچی کے ندی نالوں کے اطراف بہت سی تجاوزات قائم ہو چکی ہیں، کراچی کے نالوں میں سیوریج کا نظام درست نہیں، کراچی میں ہر روز بیس ہزار ٹن سالڈ ویسٹ پیدا ہو رہا ہے، دنیا بھر میں سالڈ ویسٹ آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے ہمارے ہاں زحمت بن جاتا ہے۔

لیفٹینٹ جنرل محمد افضل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کراچی جا کر صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی، جب کراچی گیا تو بہت سا پانی اتر چکا تھا، کراچی میں گزشتہ بارش ایک گھنٹے میں 83 ملی میٹر ہوئی، کراچی کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے تب ہی مسائل حل ہوں گے اور کراچی کے اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں تو مسائل حل ہو سکتے ہیں جب کہ آنے والی بارشوں سے کراچی کے شہریوں کو ریلیف دیا جائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو