پی یو ایم اے، اینٹی باڈیز روکنے والا نیا مرض

گزشتہ 20 برس میں ہم ہزاروں نئے امراض دریافت کرچکے ہیں اور اب چلڈرن ہسپتال آف فلاڈیلفیا (سی ایچ او پی) کے ڈاکٹروں نے ایک بچے میں نئی بیماری کا پتا لگایا ہے جس کے تحت اس کے جسم میں اینٹی باڈیز (ضدِ حیوی) اجزا نہیں بن رہے۔

ہسپتال میں سات ماہ کا ایک بچہ لایا گیا تھا جسے کان کا انفیکشن، چہرے پر سرخ دھبے اور مستقل تھکاوٹ کے آثار تھے۔ ڈاکٹروں نے لیوک نامی بچے کا مفصل جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس کے جسم میں کوئی اینٹی باڈیز موجود نہیں۔ اگرچہ یہ کیفیت ایکس لنکڈ ایگامیگلوبیولائیمیا جیسی تھی جو بچوں میں دریافت ہوچکا ہے۔ پہلے ان کا خیال اسی جانب گیا لیکن مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ لیوک اس مرض کا شکار نہیں ہے۔

اس کے بعد لیوک کا مکمل جینیاتی تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لیوک کا بدن بی سیلز اور اینٹی باڈیز نہیں بنا رہا تھا۔ اس طرح وہ ہرطرح کے انفیکشن کا شکار ہوتا رہا ہے۔ اس مرض کو PU.1 Mutated agammaglobulinemia کا نام دیا گیا ہے۔ اب اسے مختصراً پی یو۔ایم اے پکارا گیا ہے۔

اس کے بعد ہسپتال اور یونیورسٹی کے کئی سائنسداں ایک جگہ سرجوڑ کر بیٹھے اور بچے پر مکمل تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ بی لمفوسائٹس کے بغیر پیدا ہوا ہے۔ یہ خلیات اینٹی باڈیز تیار کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ایس پی آئی ون نامی جین میں بہت تبدیلی تھی۔

اگلے مرحلے میں لیوک کے بھائی کی ہڈیوں کا گودا لے کر اسے لیوک میں منتقل کیا گیا اور اب وہ تندرست ہوچکا ہے۔ اگرچہ یہ ایک نئی نایاب بیماری ہے لیکن اس کا علاج بھی سامنے آگیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو