پہلی بار آواز کی رفتار کو شکست دینے والے لیجنڈ پائلٹ

دنیا میں پہلی بار آواز کی رفتار سے تیز جہاز اڑا کر ہوابازی کو خلا کی دہلیز پر پہچانے والے امریکا کے لیجنڈ پائلٹ چک ایگر 97 سال کی عمر میں انتقال کیا۔

دنیا کی تاریخ کے مشہور ہوابازوں میں سے ایک چک ایگر ورجینیا میں 13 فروری 1923 کو پیدا ہوئے تھے اور انہیں جہازوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اورامریکی فوج میں شمولیت سے قبل انہوں نے کوئی طیارہ نہیں دیکھا تھا۔

انہوں نے 1941ء میں امریکی آرمی کے ائیرکور میں جہاز اڑانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے انجن پر کام کرنےکے لیے شمولیت اختیار کی تھی تاہم اپنی قابلیت، محنت اور ہمت سے وہ ٹریننی پائلٹ اور پھر فلائٹ آفیسر بن گئے۔

انہیں اس وقت امریکا کے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے خلائی پروگرام کے لیے منظور نہیں کیا گیا تھا کیوں کہ وہ کبھی کالج نہیں گئے تھے اور انہیں اس بات کا سخت افسوس تھا کہ وہ خلا باز نہیں بن سکے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران چک ایگر نے جرمنی کے 12 جہاز مارگرائے جن میں انہوں نے ایک ہی دن میں دو مرتبہ چار سے زیادہ طیارے گرانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

جنگ کے خاتمے کے بعد وہ کیلی فورنیاکی موروک ائیر فیلڈ میں تعینات کردیے گئے جہاں ان کے ذمے پروجیکٹ ایکس ایس- ون لگایا گیا جس کا مقصد اس طیارے کو آواز کی رفتار تک لے کرجانا تھا۔

24 سالہ کیپٹن چک ایکر نے ایک ہفتے کے دوران درجنوں طیارے ٹیسٹ کیے اور بالآخر 14 اکتوبر 1947ء کو انہوں نے ایکس-ون طیارے میں پہلی مرتبہ آواز کو پیچھے چھوڑ دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کارنامے سے چند روز قبل گھڑ سواری کے دوران چک ایگر کی 2 پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں لیکن انہوں نے گھر پر بٹھائے جانےکے ڈر سے اپنے سینیئرز کو اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔

کامیاب تجربے سے قبل ایک بی-29 بمبار طیارے نے چک ایگر سمیت ایکس-ون طیارےکو کیلیفورنیا کے صحرا میں 26 ہزار فٹ کی بلندی پر لے جا کر چھوڑ دیا، نہ تو چک ایگر اور نہ ہی ایوی ایشن انجینیئرز کو معلوم تھاکہ یہ طیارہ اور پائلٹ اس غیر معمولی رفتار کو سنبھال پائے گا بھی یا نہیں، لیکن چک ایگر 31 ہزار فٹ اوپر گئے اور مائع آکسیجن اور الکوحل پر مشتمل ایندھن کی مدد سے ایکس-ون طیارے سے 700 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 43 ہزار فٹ کا فاصلہ ایسے طے کیا جیسے وہ کوئی معمول کی پرواز ہو۔

خیال رہے کہ چک ایگر کی رفتار اتنی بلندی پر آواز کی رفتار 662 میل فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تھی۔

14منٹ تک جہاز کو اڑانے کے بعد چک ایگر ایک خشک جھیل میں بحفاظت لینڈنگ میں بھی کامیاب ہوگئے اور ساتھ ہی خلائی تحقیق اور خلائی سفرکا بھی ایک نیا باب کھولنے میں کامیاب رہے۔

ان کے اس کارنامے پر انہیں امریکی فضائیہ کی جانب سے ‘دی موسٹ میریٹورئس فلائٹ آف دی ائیر’ ایوارڈ دیا گیا، اس کے علاوہ بھی انہوں نے درجنوں تمغے حاصل کیے اور بعد ازاں انہوں نے ویتنام جنگ میں بھی دوبارہ ایک فائٹر پائلٹ کی حیثیت سے حصہ لیا اور 127 مشنز میں حصہ لیا۔

تاریخ کے عظیم ترین پائلٹ چک ایگر کو 1975ء میں امرکی کانگریس کی جانب سے بہادری پر سلور میڈل دیا گیا اور 1985ء میں صدر رونالڈ ریگن کی جانب سے صدارتی تمغہ آزادی سے بھی نوازا گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو