مالاکنڈ میں امن بحالی کے بعد اختیارات سول انتظامیہ کو منقتل کردیے، آئی ایس پی آر

پاک فوج نے ڈویژن ہیڈ کوارٹرز کو سوات سے الگ کر دیا
فائل فوٹو

راولپنڈی: کانجو چھاؤنی سوات میں منعقدہ تقریب میں پاک فوج کی طرف سے ڈویژن ہیڈ کوارٹرز کو سوات سے الگ کردیا گیا جس کے بعد اختیارات سول انتظامیہ کو منتقل کردیئے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن کے علاقے کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنے اور ریاست کی رٹ کی بحالی کے بعد سول انتظامیہ کو اختیارات کی منتقلی کا عمل 2018ء میں پاک فوج نے مکمل کر لیا تھا۔پاک فوج نے 15 سال تک علاقے کے لیے اپنی خدمات انجام دیں مستقبل میں امن و امان کی صورتحال کو پورا کرنے کے لیے اس علاقے کو اب فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (شمالی) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

کمانڈ تبدیلی کی تقریب میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے شرکت کی، تقریب میں ضلع سوات، شانگلہ، بونیر اور مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ سول اور فوجی حکام، عمائدین اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کےمطابق پاک فوج نے پہلے ہی 2018ء میں صوبائی حکومت کو اقتدار کی منتقلی مکمل کر لی تھی اور اس کے بعد سے آرمی ڈویژن مالاکنڈ سماجی و اقتصادی ڈومین میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں سیکیورٹی اور تعاون کی فراہمی پر مرکوز تھی، سوات میں یہ منتقلی علاقے میں معمولات اور امن کی واپسی کا حقیقی مظہر ہے، مقامی لوگوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عظیم قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کا نتیجہ ہے۔

وزیراعلیٰ کے پی کے نے کانجو چھاؤنی سوات کے قیام پر فوج کا شکریہ ادا کیا،وزیر اعلی نے اعتراف کیا کہ علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے فوج کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔