عمران خان نے سیاستدانوں کے مقدمات کی نگرانی کیلئے مانیٹرنگ جج کی تقرری کا مطالبہ کردیا

عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ معاملے کا ازخود نوٹس لے—فوٹو: فائل

عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ معاملے کا ازخود نوٹس لے—فوٹو: فائل

سابق وزیراعظم عمران خان  کا کہنا ہے کہ کرائم منسٹر فرینڈلی پراسیکیوشن کے ذریعے ریکارڈ میں ردوبدل کرکے اپنے اور اپنےاہلِ خانہ کی منی لانڈرنگ کے مقدمات میں مداخلت کی کوششیں کررہے ہیں۔

ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے   تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایف آئی اے مقدمے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی غرض سے ضمنی ریفرنس داخل کرنے کی آڑ میں کرائم منسٹر کی ایماء پر مقدمے کا چالان واپس لے چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی جانب سے یہ کہہ کر کہ مقدمے کے اسپیشل پراسیکیوٹرز کو عدم حاضری کی بنیاد پر فارغ کیا گیا، عدالتِ عظمیٰ کے روبرو پوری ڈھٹائی سے سفید جھوٹ بولا گیا حالانکہ اسپیشل پراسیکیوٹرز ایف آئی اے عدالت میں مقدمے کی تمام تاریخوں پر موجود تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ معاملے کا ازخود نوٹس لے اور سیاستدانوں کے تمام بڑے مقدمات کی نگرانی کیلئے ایک مانیٹرنگ جج کی تقرری کے ذریعے مقدمات پر شفاف کارروائی یقینی بنائے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ 5 ماہ گزر جانے کے باوجود بھی اب تک ایف آئی اے عدالت چارجز فریم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ کیفیت ظاہر  کرتی ہےکہ بڑےچور کیسے نظام سےکھیلتے اور اس سے فائدہ اٹھاتےہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ نیب ترمیمی قانون دراصل ایک این آر او ہے جو مستقبل میں پاکستان میں بدعنوانی کے انسداد کی مہم کو تباہ کر کے رکھ دے گا جبکہ  نواز،شہباز اور زرداری کیخلاف تمام مقدمات ختم کردیے جائیں گے اور بڑی لوٹ مار کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوگا۔