سابق حکومت سستی ایل این جی کے معاہدے کرتی تو آج بجلی کے بل بھی کم آتے: حکومتی ذرائع

اگر پی ٹی آئی حکومت نے سستی ایل این جی کی خریداری کے معاہدے کیے ہوتے آج بجلی کے بل بھی کم آتے: حکومتی ذرائع۔ فوٹو فائل
وزارت توانائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سستی ایل این جی کے معاہدے کرنے میں ناکام رہی۔

ذرائع کے مطابق 2020ء کے وسط میں ایل این جی کی قیمتیں 3 سے 5 ڈالر تک گریں لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت لمبی مدت کے ایل این جی معاہدے نہ کر سکی۔

حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ سابق حکومت نے سستی ایل این جی کی خریداری کا موقع ضائع کیا، اگر پی ٹی آئی حکومت نے سستی ایل این جی کی خریداری کے معاہدے کیے ہوتے آج بجلی کے بل بھی کم آتے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے سابق دور حکومت میں لمبی مدت کے ایل این جی معاہدے کیے گئے، لیگی دورکے معاہدوں کے تحت ایل این جی کی اوسط قیمت 8.02 ڈالرفی ایم ایم بی ٹی یو تھی جبکہ ن لیگ کی سابقہ حکومت کے دور میں ایل این جی کی اسپاٹ خریداری 9.44 ڈالر میں پڑی جبکہ حالیہ مہنیوں میں ایل این جی کی اسپاٹ پرائس 38 ڈالرفی ایم ایم بی ٹی یو تک گئی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی حکومت نے ایل این جی خریداری کے بروقت فیصلے نہیں کیے، ن لیگ نے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1152 ارب روپے چھوڑا تھا جبکہ پی ٹی آئی حکومت میں گردشی قرضہ 114 فیصد اضافے سے 2467 ارب روپے تک گیا، گردشی قرضہ بڑھنے میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری بھی شامل ہے۔

ذرائع وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ بڑھتا گردشی قرضہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں مشکل بنا رہا ہے اور عدم ادائیگیوں کی وجہ سے کوئلے کے 3900 میگاواٹ کے 3 پلانٹس کم صلاحیت پر چل رہے ہیں۔