ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ؛ اینٹوں کے بھٹے 2 ماہ کیلیے بند کرنے کا فیصلہ

جولائی اور اگست اور اس کے بعد جنوری اور فروری میں اینٹوں کے بھٹے بند رکھے جائیں گے۔ فوٹو : اے پی پی

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بھٹہ مالکان نے ملک بھر میں یکم جولائی سے دو ماہ کے لیے اینٹوں کے بھٹے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ناصرف اینٹیں مہنگی ہوں گی بلکہ بھٹوں پر کام کرنے والے ہزاروں ملازمین بھی بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

آل پاکستان بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اینٹوں کی پیداوار میں کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے، اینٹوں کے بھٹے سال میں چار ماہ بند رہیں گے۔بھٹہ مالکان ایسوسی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل مہر عبدالحق نے بتایا کہ سال میں دوبار اینٹوں کی تیاری بند کی جائے گی، جولائی اور اگست اور اس کے بعد جنوری اور فروری میں اینٹوں کے بھٹے بند رکھے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ کرنے کے دو مقاصد ہیں ایک تو یہ کہ ہم بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے کے لیے اپنی پروڈکشن کم کریں اور دوسرا یہ کہ ہر سال اسموگ سیزن میں حکومت کی جانب سے اینٹوں کے بھٹے بند کروائے جاتے تھے لیکن اس سیزن میں ہم خود ہی بھٹے بند کر دیں گے۔

بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کے مطابق اس وقت کوئلہ کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے، تمام صوبوں کے وزرائے اعلی، چیف سیکریٹریز اور وزیراعظم کو متعدد بار اس بارے خطوط لکھے گئے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔ اس وقت انڈونیشیا سے امپورٹ کیا جانے والا کوئلہ 90 ہزار روپے ٹن تک پہنچ گیا ہے جبکہ افغانستان سے منگوایا جانے والا کوئلہ جو 18 سے 20 ہزار روپے ٹن تھا اب 60 ہزار روپے ٹن تک پہنچ گیا، مقامی کوئلے کی قیمت 12 سے 15 ہزار روپے ٹن تھی جو 25 ہزار روپے ٹن ہوگئی ہے۔

دوسری طرف لاہور میں اس وقت اینٹوں کی قیمت 12 سے 13 ہزار روپے فی ہزار اینٹ ہے، بھٹے بند ہونے سے اینٹوں کی قلت ہوگی اور قیمت میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

مہر عبدالحق کہتے ہیں کہ سال میں چار ماہ بھٹے بند رہنے سے ناصرف کوئلہ، بجلی، ڈیزل اور مٹی کی بچت ہوگی بلکہ لیبر کی تنخواہوں سمیت دیگر اخراجات کی بھی بچت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بھٹے بند ہونے سے یقینا ہزاروں لوگ بیرروزگار ہوں گے لیکن اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، حکومت نے آج تک بھٹہ انڈسٹری کو کوئی ریلیف نہیں دیا ہے، ملک بھر میں اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا، حکومت نے بھٹہ مالکان کو کوئی ریلیف دینے کی بجائے یہ کریڈٹ بھی اپنے کھاتے میں ڈال لیا ہے۔

بھٹہ مالکان کے مطابق لاہور، قصور، سیالکوٹ سمیت بارڈر ایریا میں موجود اینٹوں کے بھٹوں کو اس وقت ایک بڑا مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ کچی اینٹوں کی تیاری کے لیے مٹی کا حصول مشکل ہوچکا ہے۔ بارڈر ایریا میں تعینات سیکیورٹی فورس اینٹوں کی تیاری کے لیے کھدائی کی اجازت دیتی ہیں اور نہ ہی مٹی اٹھانے دی جاتی ہے۔

اس حوالے سے بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کے حکام نے بتایا کہ ان کے وفد نے کچھ عرصہ پہلے کورکمانڈر لاہور سے ملاقات کرکے اپنی مشکل سے آگاہ کیا تھا جس پر انہوں نے اینٹوں کی تیاری کے لیے ایک طریقہ کار طے کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ان ہدایات کے مطابق لاہور کے مشرق میں بہنے والی بی آر بی نہر سے پہلے مٹی کے حصول کے کھدائی اور منتقلی کے لیے این او سی جاری کیا جائے گا لیکن بعض اوقات این او سی کے باوجود مٹی اٹھانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور کھدائی کرنے والی مشینری اور ٹرالیاں قبضے میں لے لی جاتی ہیں۔