پاکستان کا بھارت میں یورینیم کی برآمدگی پر اظہار تشویش

پاکستان نے بھارت میں غیر مجاز افراد سے ایٹم بم کی تیاری میں استعمال ہونے والے 7 کلو قدرتی یورینیم کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کر دیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے سوال اٹھایا ہے کہ بڑی مقدار میں یورینیم ریاستی کنٹرول سے کیسے باہر دستیاب تھی ، اس خلا کی نشاندہی ہونی چاہیے جس کے باعث ایسا ہوا، ایٹمی مواد کی سیکیورٹی تمام ممالک کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ بھارتی ریاست مہارشٹرا میں غیر مجاز افراد سے 7 کلو گرام سے زائد قدرتی یورینیم کی برآمدگی نے اس انتہائی حساس ریڈایکٹو مواد پر ریاستی کنٹرول کے حوالے سے کئی سوالات جنم دیے ہیں، بھارت میں اس قبل بھی کئی بار غیر متعلقہ افراد سے یورینیم برآمد کیا جاچکا ہے۔

بھارتی بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر نے تصدیق کی ہے کہ پکڑا جانے والا یورنییم انتہائی ریڈیو ایکٹو ہے۔

بھارت میں اجتماعی و انفرادی یورینیم چوری اور اسمگلنگ کے درجنوں واقعات ہوچکے جن پر امریکا اور ایٹمی دہشت گردی سے بچاؤ کے ادارے سمیت کئی ممالک اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دہشت گرد ریڈیو ایکٹو مواد کو کسی بھی روایتی ہتھیار سے جوڑ کر دھماکا کیا جاسکتا، جسے ڈرٹی بم کا نام دیا گیا ہے۔

ڈرٹی بم دھماکے کے نتیجے میں اگرچہ نقصان ایٹم بم جتنا نہیں ہوگا، تاہم بم پھٹنے کے مقام اور نزدیک علاقوں میں تابکاری اور طویل آلودگی کے امکانات ہوں گے۔

ڈرٹی بم میں استعمال ہونے والا تابکاری مواد بہت زیادہ خالص یورینیم نہیں ہوتا، بلکہ کسی بھی ریڈیو ایکٹو سورس سے حاصل کیا جا سکتا ہے، جو ادوایات یا انڈسٹری میں زیر استعمال ہو۔

لو اور ہائی پاور نیوکلیئر ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والا اور 21 کروڑ بھارتی روپے مالیت کا سات کلوگرام سے زائد نیچرل یورینیم کا بھارتی حکومتی گرفت سے باہر ہو کر عام لوگوں کے ہاتھ لگنا، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور دیگر ممالک کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو