پاکستان کا آئین اور آفاقی نظام، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ

یہ جو ہمارا آئین پاکستان ہے یہ کس طور پر نازل ہوا؟۔۔۔ اسےلانے والا کونسا پیغمبر ہے؟۔۔۔ یاد رکھیں ہمارا آئین و دستور وہی ہے جو تئیس برس تک محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتا رہا۔ ہم اس پر عمل نہیں کرتے تو ہمارے ساتھ وہی ہوگا جو یہود پر ہوا اور یہی کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔

اللہ کا قانون توڑنے والوں کو امن نصیب نہیں ہوتا۔ قانون توڑنے والے پھر خود بھی تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔ قانون توڑنے والوں میں قتل و غارت گری ہوتی ہے۔ ان کے ہاں چوریاں ہوتی ہیں۔ قانون توڑنے والے بدکار ہو جاتے ہیں۔ کونسی مصیبت ہے جو آج ہم پروارد نہیں ہو رہی؟۔۔۔

اس لئے کہ ہم جاہلوں، شرابیوں کے بنائے ہوئے قانون کو آئین سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قانون کو ناقابلِ عمل کہتے ہیں۔ ان کے کہنےکا معنی یہ ہوتا ہے کہ یہ نظام پرانا ہو چکا ہے،اس پر عمل مشکل ہے جبکہ جعلی ڈگریوں والے ان پڑھ ہر ایک کے ذمہ کروڑوں کے غبن کے مقدمے ہیں وہ چور اور جھوٹے جو لکھ دیتے ہیں وہ مقدس آئین کہلاتا ہے۔ قرآنِ کریم اللہ کا عطا کردہ آئین ہے محمد رسول اللہﷺ نے اسے اپنی حیاتِ مبارکہ میں زندگی کے ہر گوشے میں نافذ کیا ہے۔صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اس وقتکی معلوم دنیا کو اس آئین کی برکتوں سے بہرہ ور کیا ہے۔ قرآن حکیم کا یہ کمال ہے کہ یہ اپنے نزول سے لے کر قیامت تک کے لئے ہے، تمام انسانیت کا آئین و دستور ہے۔ زندگی کے ہر سوال کا جواب اس میں موجود ہے۔ جو کہتے ہیں کہ اب یہ پرانا ہو گیا، آج یہ ناقابلِ عمل ہے وہ اپنے مسلمان ہونے کی فکر کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو