پاکستان پر مسلط ٹڈی دَل

پاکستان برسہا برس سے ٹڈیوں کے اس انبوہ کے ہاتھوں لٹتے چلے آرہے ہیں۔ پاکستان پر مسلط ٹڈیوں کا لشکر جرار ہمارے سب وسائل ہڑپ کر جاتا ہے اور ہم حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ مشرقی افریقا اور مشرقِ وسطیٰ سے ایران کے راستے پاکستان داخل ہونے والا ٹڈیوں کا جُھنڈ تو اب حملہ آور ہوا ہے مگر ہمارے کھیت، کارخانے، بازار اور کاروبار تو پہلے سی ہی اُجڑ چکے، ہاں رہی سہی کسر اس بےرحم ٹڈی دَل نے پوری کردی۔

’’گراس ہوپر‘‘ یعنی گھاس کے ٹڈے کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ٹڈیوں کو انسان نے کبھی گھاس نہیں ڈالی، یہی وجہ ہے کہ ٹڈیوں کے جُھنڈ کا مذاق اُڑانے کے لئے’’ٹڈی دَل‘‘ کی اصطلاح متعارف کروائی گئی۔ دشمن کی سپاہ کا مذاق اُڑانے کے لیے ’’ٹڈی دَل فوج‘‘ کی پھبتی کسی جاتی تھی مگر اب یہ ٹڈیاں ’’فضائی قزاق‘‘ کا روپ دھار کر انسانی معاشرے کے لیے خطرے کی علامت بن چکی ہیں۔ گراس ہوپر کے برعکس یہ ٹڈیاں اُڑ سکتی ہیں اور پرواز کرنے کی یہی صلاحیت انہیں خوفناک حملہ آور بناتی ہے۔ ٹڈی 90میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتی ہے یعنی ایک گھنٹے میں 160 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔

جب یہ ٹڈیاں جھنڈ کی شکل میں اُڑتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے آندھی آرہی ہو۔ ان کے راستے میں جو بھی کھیت آتا ہے اسے یہ ہڑپ کر جاتی ہیں۔ ہر ٹڈی اپنے وزن سے دوگنا کھا سکتی ہے اور جب کروڑوں ٹڈیاں بیک وقت سفر کرتے ہوئے کہیں رُک کر حملہ آور ہوتی ہیں تو تباہی مچا دیتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق ٹڈی دَل کے صرف ایک مربع کلومیٹر جھنڈ میں 80کروڑ بالغ ٹڈیاں ہو سکتی ہیں جو 35ہزار انسانوں کی خوراک صرف ایک دن میں ہڑپ کر جاتی ہیں۔

پاکستان میں بھی ان ٹڈیوں کے بہت بڑے لشکر قطار اندر قطار اُترتے دیکھے گئے ہیں مگر گزشتہ برس براعظم افریقہ کے ملک کینیا میں ٹڈیوں کو ایک ایسا جھنڈ دیکھا گیا تھا جسے اب تک ٹڈیوں کا سب سے بڑا لشکر تسلیم کیا جاتا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق ٹڈیوں کا یہ جھنڈ امریکی شہر نیو یارک سے کہیں زیادہ بڑا تھا اور اس کی وجہ سے پروازیں معطل کرنا پڑیں۔ یہ ٹڈیاں اس قدر تیزی سے اپنی نسل بڑھاتی ہیں کہ اگر کسی سازگار ماحول میں تین ٹڈیاں بھی زندہ رہ جائیں تو بہت جلد نیا ٹڈی دل وجود میں آجاتا ہے کیونکہ ایک مادہ ٹڈی 200سے 1200بچے دیتی ہے۔پہلے سے موجود ٹڈی دَل کی تباہ کاریوں کا سلسلہ تھما نہیں اور ماہرین نے خبردار کردیا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں ٹڈیوں کے مزید جھنڈ براعظم افریقہ کے مشرقی ممالک سے بذریعہ ایران پاکستان میں داخل ہو کر بچی کھچی فصلوں کو بھی برباد کر سکتے ہیں۔

یہ حملہ اس لیے خوفناک ہو سکتا ہے کہ پہلے سے پاکستان میں موجود ٹڈیاں جو چولستان اور بلوچستان کے صحرائی علاقوں میں پرورش پارہی ہیں ،وہ بھی یلغار کرنے کو تیارہو چکی ہوں گی۔

ابھی پاکستان میں یوں تو پورا ملک متاثر ہے مگر ٹڈی دَل نے زیادہ تر بلوچستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیںکیونکہ ریت اور نمی اس کی پسندیدہ آماجگاہ ہوتی ہے۔ بلوچستان وہ بدقسمت صوبہ ہے جسے وسائل اور حقوق تو آبادی کے حساب سے ملتے ہیں مگر مسائل اور مصیبتیں رقبے کے حساب سے اس کے حصے میں آتی ہیں۔

کورونا سے نمٹنے کے لیے بھارتی پردھان منتری نریندر مودی نے بھی کم و بیش آدھا تیتر، آدھا بٹیر کی وہی پالیسی اپنائی جو پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اختیار کی۔ اور اس احمقانہ پالیسی کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

وہاں بھی 500مریض سامنے آنے پر لاک ڈاؤن کیا گیا اور یہاں بھی شروع میں سخت اقدامات کرتے ہوئے لاک ڈائون کی پالیسی اختیار کی گئی مگر اب جب کورونا بےقابو ہو چکا ہے تو وہاں بھی مارکیٹیں کھول دی گئی ہیں اور یہاں بھی کاروبار ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک میں ایک بار پھر سخت لاک ڈاؤن کے منصوبوں پر غور ہو رہا ہے۔

بہتر ہوگا کہ ٹڈی دَل پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے، ایران، پاکستان، افغانستان اور بھارت ملکر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں ورنہ کورونا اور ٹڈی دَل ملکر سب کچھ اجاڑ ڈالیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو