پاکستان فورجی ریگولیٹر کا درجہ حاصل کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ملک

پاکستان نے 100 میں سے 88 نمبر حاصل کئے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے آئی سی ٹی ریگولیشنز معاشی اور معاشرتی پالیسی کے اہداف پر مشتمل ہیں، رپورٹ

اسلام آباد: بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) نے پاکستان کو فورتھ جنریشن ریگولیٹر (فورجی)کا درجہ دے دیا اورپاکستان یہ درجہ حاصل کرنے والا جنوبی ایشیا کاپہلا ملک بن گیا ہے۔

آئی ٹی یو کی رپورٹ ”گلوبل آئی سی ٹی ریگولیٹری آؤٹ لک 2020 (جی آئی آر او)” کے مطابق، پاکستان نے 100 میں سے 88 نمبر حاصل کئے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے آئی سی ٹی ریگولیشنز معاشی اور معاشرتی پالیسی کے اہداف پر مشتمل ہیں۔ایشیا پیسیفک کے 38 ممالک میں سے، صرف 8فیصد ریاستیں ہی جی4 کی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہیں۔ آئی ٹی یو کا تیار کردہ ٹریکر شواہد پر مبنی ایک ٹول ہے جس کے ذریعے فیصلہ سازوں اور ریگولیٹرز کو آئی سی ٹی ریگولیشن کے ارتقاء کی نگرانی کرنے میں مدد ملتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ریگولیٹری اتھارٹی کے لئے 20 میں سے 20 نمبر حاصل کئے، ریگولیٹری مینڈیٹ میں 22 میں سے 19نمبر ریگولیٹری رجیم میں 30 میں سے 22اور مسابقتی فریم ورک کے لئے28میں سے 27 نمبر حاصل کیے۔ رپورٹ میں ”باہمی تعاون کے ساتھ ریگولیشن“ کی جانب پاکستان کے سفر کوخصوصی طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

پاکستان پورے ایشیا پیسیفک خطے میں سرفہرست پہلے پانچ ریگولیٹرز میں شامل رہا جبکہ عالمی درجہ بندی میں 48 ویں نمبر پہ رہا ہے۔ جی آئی آر او 193 ممالک کی طرف سے فراہم کردہ اعلی کوالٹی ڈیٹا پر مشتمل ہے جو کہ ”آئی سی ٹی ریگولیٹری ٹریکر “ کی بنیاد ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی اور سماجی و معاشی فوائد کے پیش نظر نئے بین الاقوامی بینچ مارک کے تحت صارفین کے مفادات کے تحفظ اور عوامی نجی تعاون کے فروغ کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو