پاکستان اور جمہوری سیاست

برسر اقتدار آنے والی جماعتوں میں پیپلز پارٹی ملک میں کبھی معاشی ترقی نہ دے سکی بلکہ معاشی طور پہ ملک کا بہت نقصان کیا۔ جس کی سب سے بڑی مثال ذوالفقار علی بھٹو کا کارخانوں کو قومیانے کا فیصلہ بھی ہے۔ جس نے پاکستان کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔ البتہ پارلیمانی قانون سازی میں پیش پیش رہی۔ 1973ء کا آئین بھی پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہی منظور اور نافذ ہوسکا۔ بدعنوانی اور رشوت ستانی میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنان بہت شہرت کے حامل ہیں۔ جبکہ اس میں بھی زمرد خان، آصف بھاگٹ جیسے پیارے اور ایماندار لوگ ہیں۔ جنھیں میں ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں کہ کرپٹ اور ملک دشمن نہیں.

تحریک انصاف کے بانی اور سربراہ کا کردار ہی مشکوک ہے۔ بھارتی، قادیانیوں، گوھریوں، زید حامدیوں کی مدد اور مشاورت سے چالیں چلی جاتی ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس اور سارے کرپٹ سیاستدان کو ساتھ ملانا سب مشکوک کر دیتا ہے۔ جبکہ اس جماعت میں سردار یعقوب صاحب جیسے شریف، محب وطن، قابل، ایماندار لوگ بھی ہیں.

جماعت اسلامی کے سربراہ کو مروانے کے لئے ان کے مشیر ہی کافی ہیں. امیر جماعت اسلامی کو ان کے مشیران نے کچھ کامیاب پالیسیاں نہیں دیں. سراج الحق بہت اچھے آدمی ہیں لیکن جماعت اسلامی کی سیاسی طور پہ چالیں ناکام رہیں۔ جس کی وجہ ان چالوں کا جمہوری پسند ہونا اور دوسرا جماعت پسند ہونا بھی شامل ہے، نے انھیں نقصان پہنچایا۔ وہ بظاہر متعصب نہیں لیکن جماعت سے باہر کا بندہ ان کا دشمن ہی ہے.

مولانا فضل الرحمن صاحب کو ووٹ ہمیشہ اسلام کے نام پہ ملے اور انھوں نے اپنے تئیں اسلامی قوانین کا تحفظ ضروری کیا۔ لیکن حکومتی تشکیل میں ان کا کردار آلو جیسا رہا کہ گوشت، چاول کے ساتھ بھی پکا لو اور اکثر سبزیوں میں بھی ڈال لو. لیکن میں اسے غلط نہیں سمجھتا بلکہ ملکی مفاد میں وہ بہترین سیاسی چالیں چلتے رہے۔

ن لیگ، نواز اور شہباز نے کرپشن کی یا نہیں لیکن پوری حکومتی مشینری آج تک کوئی ٹھوس ثبوت مہیا نہ کرسکی۔ اگر احتساب ہو تو بہت ہی بہتر ہو جاتا تاکہ یہ مثال بن جاتی کہ جب حکمران نہیں بچ سکے تو مائوشما بھی نہیں بچے گا لیکن اس نظام میں ایسی سکت ہی نہیں ہے. مسلم لیگ نواز کا کردار ترقیاتی لحاظ سے مثبت رہا لیکن سیاسی قیادت نے سیاسی چالیں چلنے میں بہت بیوقوفی سے کام لیا۔ کوئی شک نہیں کہ جنرل مشرف دور سے بڑھنے والی دہشت گردی کی لہر جو پیپلز پارٹی کے دور میں اور زیادہ شدت اختیار کرگئی تھی کے آگے بند باندھا۔ دہشت گردی کو صرف اکیلے فوج اور دیگر قانون نافز کرنے والے اداروں نے ہی نہیں روکا بلکہ اس میں حکومتی سپورٹ بھی شامل ہے. زرداری دور کے بعد اگر حکومت فوری اقدامات نہ کرتی تو آپ کسی نہ کسی حصے کو کھو بیٹھتے.

سی پیک کا کام تیزی سے شروع ہونا، مسلم لیگ نواز کے ملکی ترقی میں نیک نیت ہونے کا ثبوت ہے.

شریف برادران کے بارے میں اتنا ہی کہا جائے گا کہ یہ زرداری، عمران خان سے بہتر ہیں.

ہر ایم پی اے اور ایم این اے کو ٹھیکوں میں سے کچھ فیصد کمیشن ملتا ہے۔ یہ قانونی طور پہ ان کو جاتا ہے. اب کوئی حکومت اس کو ختم نہیں کرتی کیونکہ ان کے اپنے ہی ایم پی اے اور ایم این ایز ان کے خلاف ہو جائیں گے۔ قریبی اور عزیز ترین ایم پی ایز اور ایم این ایز کو پرمٹ بھی ملتے ہیں. ان کاموں کو ختم یہ نظام نہیں کرسکتا. اب حکومت اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو زیادہ ترقیاتی بجٹ دیتی ہے تاکہ یہ اگلے الیکشن میں پھر کامیاب ہوسکیں.

کاروبار حکومت چلانے والے لوگوں میں فری میسن، قادیانی، غیرملکی ایجنسیوں کے لوگ شامل ہوچکے ہیں. جو کہ حکمرانوں کی قوت فیصلہ کو کمزور کردیتے ہیں. یہ ہر دور میں ہوتا رہا ہے اور مسلمانوں کی اکثر حکومتوں کو اسی پہلو سے نقصان پہنچا۔

ہمارا دور ایسا مجبور دور ہے، جس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ملتی. مسلمان عوام، مسلمان حکمران ہیں لیکن اسلامی نظام کے مطابق ہم کام نہیں کرسکتے۔

اور تو اور ہم سود سے نہیں بچ سکتے۔ ہم کسی صالح اور قابل بندے کو حکمران منتخب نہیں کرسکتے۔ ظلم کا بازار گرم ہے. اب ہماری مجبوری بن گئی ہے کہ ہم اسلامی نظام حکومت کا مطالبہ بھی کرتے ہیں اور اس کفریہ نظام حکومت کے طریقہ انتخاب کے مطابق ووٹ بھی دینا پڑتا ہے۔ اب ایک ہی انتخاب رہ جاتا ہے کہ کم سے کم درجے کے برے بندے کو ووٹ دیا جائے۔ اگر اسلام پسند بھی ووٹ دینا چھوڑ دیں تو ملک کو بدترین لوگ سنبھال لیں۔

میری درخواست ایک ہی ہے کہ ہم مسلمانوں کو اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کا دیوانوں کی طرح مطالبہ کرتے رہنا چاہئے. جہاں بیٹھیں اور جس سے بھی بات کریں، اسلام کی حقانیت اور عظمت کی بات کریں۔

جب اسلامی نظام انتخاب سے لوگ منتخب ہو کر آئیں گے تو قوت فیصلہ ہوگی. کیونکہ قابل اور اہل لوگ آئیں گے. انھیں حکومت کی خواہش بھی نہیں ہوگی۔ وہی کامیاب بھی ہوں گے اور اللہ کی مدد بھی ان کے ساتھ ہوگی۔

اسلام کی روشنی سے باہر سب کچھ ہی جہالت اندھیرا ہے. اسلام کا نام لو. اسلام پہ جیو، اسلام پہ موت آجائے. کامیاب ہو جاؤ گے.

رب کی دھرتی پہ رب کا نظام نافذ کرنے کی بات کرو۔

میاں قاسم
بندہ صحرائی

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو