پابندیوں میں جکڑتے فرانسیسی مسلمان

فرانس میں روس کو چھوڑ کر یورپ کی سب سے بڑی مسلم آبادی آباد ہے۔ مسلمانوں کی تعداد پچاس سے پچپن لاکھ کے مابین ہے۔

فرانس کی کُل آبادی چھ کروڑ سڑسٹھ لاکھ ہے۔ یہ بہ لحاظ آبادی جرمنی اور برطانیہ کے بعد تیسرا بڑا یورپی ملک ہے۔ آج کل فرانسیسی مسلمان حکومتی آمریت، دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

صدر میخائل میکخوان کی حکومت ان پہ نت نئی پابندیاں تھوپنے کی خاطر باقاعدہ قوانین بنا رہی ہے۔مثلاً یہ کہ تمام مسلمان بچوں کو ’’شناختی نمبر ‘‘دئیے جائیں گے۔ مقصد یہ امر یقینی بنانا ہے کہ تمام مسلم بچے اسکولوں میں تعلیم وتربیت پائیں۔

فرانسیسی حکمران طبقے کا خیال ہے کہ جو مسلمان بچے اپنے گھروں یا مسجد میں تعلیم پائیں ،وہ شدت پسند مذہبی نظریات کے حامل بن جاتے ہیں۔اسی طرح اب فرانس میں کسی اسلامی سماجی تنظیم کا کام کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا۔فرانسیسی حکومت سمجھتی ہے کہ اسلامی تنظیمیں فلاحی کاموں کی آڑ میں انتہا پسندانہ نظریات کی ترویج کرتی ہیں۔

بعض فرانسیسی دانشوروں کا کہنا ہے کہ جس طرح ہٹلر نے یہود پہ پابندیاں لگا کر انھیں معاشرے سے الگ تھلگ کر دیا تھا ،یا پھر نریندر مودی نے بھارتی مسلمانوں کو سرکاری دہشت گردی کے ذریعے معاشرے سے کاٹ دیا ،اسی طرح میکخوان حکومت بھی فرانس کے مسلمانوں کو معاشرے سے الگ کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ پھل پھول نہ سکیں،ترقی نہیں کر سکیں۔اس کی بھرپور کوشش ہے کہ فرانس میں مسلم آبادی اپنی دینی شناخت اور اقدار سے دستبردار ہو جائے۔

پابندیاں لگانے کی وجوہ
میکخوان حکومت مختلف وجوہ کی بنا پہ فرانسیسی مسلمانوں پر پابندیاں لگارہی ہے۔ایک وجہ سیاسی ہے۔صدر میکخوان اسلام اور مسلمانوں کو ٹارگٹ کر کے فرانسیسی لامذہبوں اور قدامت پسند عیسائیوں کو اپنی چھتری تلے لانا چاہتا ہے۔مدعا یہ ہے کہ اپنے اور اپنی پارٹی کے ووٹ بینک میں اضافہ کر سکے۔

فرانس میں ایک سال بعد الیکشن ہونے والے ہیں۔گویا موصوف نے بھارتی انتہا پسند جماعت،آر ایس ایس کی پالیسی اپنا لی جو مسلم آبادی کو نشانہ بنا کر ہندوئوں کو اپنے پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں کامیاب رہی۔مذید براں کچھ عرصے سے میکخوان حکومت گوناں گوں معاشی مسائل میں گھری تھی۔کورونا وبا نے ان مسئلوں کی شدت میں اضافہ کر ڈالا۔میکخوان نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فرانسیسی عوام کے مذہبی و نظریاتی جذبات بھڑکا کر چاہا کہ ان کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے۔وہ اس حکمت عملی میں خاصی حد تک کامیاب رہا۔

فرانس میں زیادہ شرح پیدائش کے باعث مسلم آبادی بڑھ رہی ہے۔بیرون ملکوں سے بھی ہر سال ہزارہا مسلمان آتے ہیں۔خیال ہے کہ آبادی میں اضافہ جاری رہا اور اسلامی ممالک سے مسلمان مہاجر آتے رہے تو 2050ء تک فرانس میں مسلمانوں کی تعداد ڈیرھ کروڑ پہنچ جائے گی۔بہت سے غیر مسلم فرانسیسی یہ منظرنامہ دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔

اس پریشانی کی دو بنیادی وجوہ ہیں۔اول یہ کہ انھیں خوف ہے ، مسلمان غیر مسلموں سے ملازمتیں چھین لیں گے۔دوم یہ کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد فرانسیسی معاشرے کو اپنے مذہبی نظریات واقدار کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرے گی۔فی الوقت آخری وجہ ہی فرانسیسی مسلمانوں اور غیر مسلم عوام کے مابین تصادم کا اہم عنصر ہے۔

’’عوامی آمریت‘‘ وجود میں آئی
ماضی میں فرانس عیسائیت کا نمایاں مرکز رہا ہے۔اسی سرزمین پر شارلیمان جیسا حکمران سامنے آیا جس نے مغربی کلیسا کو طاقتور بنایا اور اسے منظم شکل دی۔ پہلی صلیبی جنگ میں عیسائی فوج میں اکثریت فرانسیسی فوجیوں کی تھی۔ یہ مملکت پھر کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے مابین خانہ جنگی کی آماج گاہ بنی رہی۔ اواخر 1789ء سے فرانسیسی انقلاب نے جنم لیا جو انسانی تاریخ کا اہم موڑ سمھجا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے عوام نے بادشاہت سے چھٹکارا پایا اور اپنے دیس میں عوامی راج (المعروف بہ جمہوریت) کو پروان چڑھایا۔ اب عام آدمی سب سے بڑی طاقت قرار پایا۔ مگر رفتہ رفتہ عام شہری کو اتنی زیادہ آزادیاں دے دی گئیں کہ نئی قسم کی ’’عوامی آمریت‘‘ وجود میں آگئی۔اس نئے سول سسٹم میں خصوصاً شہری اخلاقی و مذہبی قیود سے ماورا ہو گیا۔فرانس میں اس نظرے نے جنم لیا کہ شہریوں کو لازماً ،ہر حال میں قانون و آئین پر تو عمل کرنا چاہیے لیکن اخلاقی ومذہبی لحاظ سے وہ کس قسم کا چلن اپناتا ہے،اس سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں۔گویا قانون شہریوں کے اخلاقی چال چلن اور کردار سے بے پروا ہو گیا۔

یہی وجہ ہے، فرانس میں عوام نے آہستہ آہستہ اپنی مذہبی کتاب، بائیبل کے خصوصاً ان احکامات پہ عمل درآمد کرنا چھوڑ دیا، جو فسق وفجور سے متعلق تھے۔ وہ اس باعث کئی گناہوں میں مبتلا ہو گئے جن میں زنا، ہم جنسیت، فحش حرکات، شراب نوشی اور مادہ پرستی نمایاں ہیں۔

آج کروڑوں فرانسیسی ہی نہیں دنیائے مغرب میں آباد بیشتر غیر مسلموں کے اعمال براہ راست احکام ِبائیبل سے متصادم ہیں مگر انھیں کوئی پچھتاوا یا افسوس نہیں کیونکہ مغربی حکومتیں سیکولرازم نامی نظریے پر عمل پیرا ہو چکیں…یہ کہ ریاست شہری کے مذہبی واخلاقی اعمال میں دخل اندازی نہیں کر سکتی۔اور ہر شہری کو مذہبی واخلاقی اعتبار سے کوئی بھی عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ مادر پدر آزاد روپ دھارنے والی ایسی آزادی کو یورپی وامریکی ’’آزادی رائے‘‘ کا نام دے چکے۔

بائیبل میں کئی مقامات پر زنا کار مرد وعورت کو موت کی سزا دینے کا حکم آیا ہے۔ کتاب احبار، آیات 10 تا 21 میں درج ہے کہ حرام کاری کرنے والے مار دئیے جائیں۔ حتی کہ انھیں جلا کر مار دینے کا خوفناک حکم آشکار کرتا ہے کہ یہ کتنا گھناؤنا گناہ ہے۔ اسی طرح فحش حرکات کرنا اور ہم جنسیت کو اپنا لینا بھی از روئے بائیبل بڑا گناہ ہے۔

شراب نوشی کی ممانعت بھی ملتی ہے کیونکہ وہ انسان کو مدہوش کر کے ہوش و حواس سے بیگانہ کرتی ہے۔ بائیبل اپنے پیروکاروں کو حکم دیتی ہے کہ دنیا کی محبت میں گرفتار ہو کر مادہ پرست نہ بنیں بلکہ سادگی، قناعت اور دیگر نیکیوں کو اپنا شعار بنائیں۔ آج مگر دنیائے مغرب میں بائیبل کے ماننے والوں کی اکثریت خصوصاً اخلاقی اقدار میں اپنی مذہبی کتاب کے بتائے احکامات پر ہی عمل پیرا نہیں۔مغربی معاشرے کا بدترین حال یہ ہو چکا ۔جو لڑکی لڑکا اپنی دوشیزگی ومعصومیت برقرار رکھنے پر مضر ہوں،انھیں پاگل اور کسی دوسری دنیا کی مخلوق سمجھا جاتاہے۔

مسلمانوں کا مختلف طرز زندگی
توریت وانجیل کے پیروکاروں کے برعکس مسلمانوں کی اکثریت خاص طور پہ فسق وفجور کے معاملات میں قران پاک کے بتائے احکامات پہ عمل کرتی ہے۔عالم اسلام میں موجود مغرب پسند طبقے کو چھوڑ کر عام مسلم گھرانوں میں والدین بچپن ہی سے اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ سکھاتے ہیں کہ فحاشی سے دور رہو،پاکیزگی اپنائو،جسم ڈھانپ کر رکھو،گالیاں نہ دو۔انھیں نماز پڑھنا سکھایا جاتا ہے اور قران پاک پڑھنا بھی۔اسی لیے عام مسلمانوں کی اکثریت فحاشی،زناکاری وغیرہ سے دور رہتی ہے۔شراب نہیں پیتی اور ہم جنسیت کو گناہ کبیرہ سمجھتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں عیسائیوں کی اکثریت احکامات ِبائیبل پہ عمل کرتی تھی۔اسی لیے ان میں آج کی طرح کھلے عام فحاشی مفقود تھی۔معزز گھرانوں کی خواتین سر ڈھانکتی تھیں اور پورے کپڑے زیب تن کرتیں۔زنا کرنے والے مردوعورت سے نفرت کی جاتی اور انھیں حقارت سے دیکھا جاتا۔شراب نوش کو بھی بُرا انسان سمجھا جاتا اور سماج میں اس کی عزّت نہ تھی۔انسان کو آزادیاں دینے کے نام پر مگر جو تحریک شروع ہوئی،اس نے آخرکار اہل مغرب کی بیشتر تعداد کو مذہب واخلاقیات سے دور کر دیا۔

بیسویں صدی تک لامذہبی نظریات نے طویل لڑائی کے بعد بائیبل احکامات کو شکست دے ڈالی ۔چناں چہ فحاشی وحرام کاری دنیائے مغرب کا سّکہ رائج الوقت بن گیا۔حد یہ ہے کہ اب آئے دن پادریوں کے جنسی اسکینڈل آتے رہتے ہیں۔

بیسویں صدی ہی سے مسلمان مختلف مغربی ممالک میں بس کر وہاں غیرمسلموں کو پاکیزگی ونیکی پہ مبنی اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کرنے لگے۔بعض غیر مسلم اس تعلیم سے متاثر ہوئے مگر ان کی اکثریت نے حیرت وتعجب کا اظہار کیا کہ مسلمان شراب وزنا سے دور رہتے ہیں۔

یہ غیر مسلم لا مذہب بن کر اپنی مذہبی تعلیمات سے کٹ چکے تھے۔ان کا نظریہ اب یہ تھا کہ دنیاوی زندگی ہی سب کچھ ہے لہذا یہاں رہتے ہوئے جتنے مزے کرنے ہیں،کر لو۔جب مسلمانوں نے اس نظریے سے متضاد نظریات کی ترویج واشاعت شروع کی لامذہب غصے میں آ گئے۔کہنے لگے کہ مسلمان انھیں دنیاوی لطف ودلچسپیوں سے روکنا اور اپنے خشک نظریات ان پہ ٹھونسنا چاہتے ہیں۔اسی سوچ نے کئی مغربیوں کو مسلمانوں کے خلاف صف آرا کر دیا۔

نظریاتی جنگ کی اصلیت
دور جدید میں بہت سے مسلمان دنیائے مغرب میں جاری کشمکش کو اسلام اور عیسائیت کے مابین تصادم قرار دیتے ہیں۔اصل میں یہ جنگ اسلامی نظریات اور لامذہبی عناصر کے درمیان ہے۔مغربی ممالک میں اسلامی تعلیمات کے تقریباً سبھی مخالف دانشور لامذہب ہیں۔وہ توریت و انجیل کو بطور الہامی کتب نہیں مانتے اور نہ ان میں بتائے احکامات پر عمل پیرا ہیں۔مگر یہ لوگ مغربی ہیں،اسی لیے انھیں عیسائی سمجھ لیا گیا۔جبکہ بائیبل کے پیروکار مغربی لامذہبوں کو اپنا سمجھ کر ان کی کھلی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اکثر اوقات مختلف وجوہ کی بنا پہ مسلمانوں ہی کو مخالف گردانتے ہیں۔

فرانس میں اسلامی نظریات اور لامذہبی نظریوں کے مابین تصادم کی شدت سبھی مغربی ملکوں میں سب سے زیادہ ہے۔وجہ یہ کہ فرانسیسی حکمران طبقہ خود کو انسان کی انفرادی آزادیوں کا بانی ومنبع سمجھتا ہے۔اخلاقیات اور قانون کے دائرہ کار سے خارج ان آزادیوں نے فرانس میں جنم لیا اور پھر وہ دیگر مغربی ملکوں میں پھیل گئیں۔مگر امریکا،برطانیہ،کینیڈا،آسٹریلیا وغیرہ میں کسی نہ کسی قانون کے تحت شخصی آزادی کی حد مقرر ہے۔

مثلاً حال ہی میں کینیڈین وزیراعظم نے بیان دیا کہ کوئی سینما میں آ کر چلانے لگے :آگ لگ گئی مگر حقیقت میں ایسا نہ تو اسے آزادی رائے نہیں کہا جا سکتا۔‘‘اسی طرح کئی مغربی دانشور مقدس ہستیوں کی توہین وتضحیک کو آزادی رائے قرار نہیں دیے۔گویا انفرادی آزادیوں کے یہ معنی نہیں کہ انسان دوسرے انسانوں کو ذہنی یا جسمانی طور پر نقصان پہنچائے اور انھیں ذلیل کرتا پھرے۔

فرانس اور اسکینڈے نیوین ملکوں میں مگر انفرادی آزادیوں کا کٹر اور واہیات نظام رائج ہے۔گویا ایک طرف ایسے معاشرے بھی ہیں جہاں شہریوں پہ غیرانسانی پابندیاں عائد ہیں۔جبکہ فرانس جیسے ملک بھی ملتے ہیں جہاں ہر شہرے کو خصوصاً اخلاقی لحاظ سے لامحدود آزادیاں حاصل ہیں۔ایک فرانسیسی یا سویڈش شہری چاہے تو سڑک پر برہنہ کھڑا ہو جائے۔جب دیگر شہری اس کے خلاف شکایت کریں تبھی قانون حرکت میں آتا ہے ورنہ نہیں۔شخصی آزادی کا یہ نظام اب فرانس میں ایسے مسلمانوں کو برداشت نہیں کر پاتا جو اسلامی اقدار،روایات اور تہذیب وثقافت پہ عمل کرتے زندگی گذارنا چاہتے ہیں۔

فرانسیسی انتہاپسندانہ لامذہبی سسٹم مسلمانوں سے تقاضا کررہا ہے کہ وہ اسلامی اقدار چھوڑ کر اس کا طرزِحیات اپنا لیں۔بہت سے مسلم مگر فرانسیسی نظام سے نفرت کرتے ہیں اور اپنی دینی روایات تج دینے کو تیار نہیں۔اسی باعث فرانس میں لامذیبی حکمران طبقے اور مسلمانوں کے درمیان تصادم بڑھ گیا۔اگر فرانسیسی حکمرانوں نے کٹر پن کو خیرباد نہیں کیا تو مستقبل میں تصادم زیادہ مسلح صورت اختیار کر جائے گا۔

مغرب میں میڈیا لامذہبی طبقے کا طاقتور ہتھیار بن چکا۔گستاخانہ خاکے شائع کرنے والا ڈنمارک کا اخبار(جیلنڈے پوسٹن)اور فرانسیسی ہفت روزہ(شارلی ابدو)،دونوں لامذہبی اور سیکولر طبقوں کے ترجمان ہیں۔جب مسلمانوں نے قدرتاً طیش میں آ کر میڈیا کے گستاخ اور کمینے لامذہبی عناصر کو نشانہ بنایا تو یہ آزادی رائے پہ حملہ بن گیا۔فرانس میں تو سرکاری سرپرستی میں گھٹیا خاکوں کی اشاعت ہوئی۔یہ عمل مگر فرانسیسی اور سبھی مغربی حکمرانوں کی منافقت اور دوغلے پن کا واضح ثبوت ہے۔

وجہ یہ کہ فرانس و ڈنمارک سمیت اکثر یورپی ممالک میں کوئی بھی شہری جرمنی میں یہود کے قتل عام(ہولوکاسٹ)کی ازروئے قانون نفی نہیں کر سکتا۔اگر کوئی شہری ہولوکاسٹ کے متعلق شکوک وشبہات ظاہر کرے تو اسے قید ،جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔یہ ہے جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام لیوا مغربی حکمرانوں کا اصل روپ!یہی حکمران اسرائیل اور بھارت کے بھی پشتی بان ہیں جو فلسطین اور کشمیر میں علی اعلان مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں مگر ان کا ظلم روکنے کے لیے مغرب کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرتا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو