اسمارٹ فونز کب ماضی کا قصہ بن جائیں گے

درحقیقت نوکیا سی ای او کے خیال میں ایسا بہت جلد ہونے والا ہے / فوٹو بشکریہ نوکیا

دنیا بھر میں ففتھ جنریشن موبائل نیٹ ورک (5 جی) ٹیکنالوجی مکمل طور پر متعارف نہیں کرائی جاسکی مگر اس سے بھی جدید ٹیکنالوجی یعنی 6 جی پر تیزی سے پیشرفت ہورہی ہے۔

مگر کیا آپ اس ٹیکنالوجی کو اسمارٹ فونز پر استعمال کرسکیں گے؟ معروف کمپنی نوکیا کے سی ای او کو ایسا نہیں لگتا۔

نوکیا کے سی ای او پیکا لینڈمارک کو توقع ہے کہ 6 جی موبائل نیٹ ورک اس دہائی کے آخر تک کام کررہا ہوگا مگر انہیں نہیں لگتا کہ اسمارٹ فون اس ٹیکنالوجی کے عام انٹرفیس ہوں گے۔

اس وقت اسمارٹ فونز زندگی کا اہم ترین حصہ بن چکے ہیں اور بیشتر افراد تو چند منٹ بھی اس سے دور نہیں رہ سکتے، مگر نوکیا کے سی ای او کے خیال میں 2030ء تک بیشتر لوگ اسمارٹ فونز کو اپنی زندگی سے نکال چکے ہوں گے۔

گزشتہ دنوں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں پیکا لینڈمارک سے پوچھا گیا کہ کیا لوگ اسمارٹ فونز کی جگہ اسمارٹ گلاسز اور چہرے پر پہنے جانے والی دیگر ڈیوائسز کو کب تک دے سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا 6 جی کی آمد سے قبل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت یقیناً اسمارٹ فونز سب سے زیادہ استعمال ہونے والے انٹرفیس نہیں ہوں گے بلکہ بیشتر ڈیوائسز براہ راست ہماری جسموں میں نصب ہوں گی۔

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس طرح کی ڈیوائسز کا حوالہ دے رہے ہیں مگر کچھ کمپنیاں جیسے ایلون مسک کی نیورل لنک ایسی ڈیوائسز پر کام کررہی ہیں جو دماغ میں نصب کی جائیں گی۔

ان ڈیوائسز کو مشینوں اور انسانوں کے درمیان کمیونیکشن اور دیگر کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

یعنی ان کے مطابق 2030ء تک اسمارٹ فونز ماضی کا قصہ بننے کے قریب ہوں گے اور زیادہ جدید ٹیکنالوجی استعمال ہونے لگے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بات درست ثابت ہوتی ہے یا نہیں مگر نوکیا فونز کو فروخت کرنے کا لائسنس رکھنے والی کمپنی ایچ ایم ڈی گلوبل پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ اب وہ فلیگ شپ فونز تیار نہیں کرے گی۔

کمپنی کے مطابق یہ بات ہمارے لیے قابل فہم نہیں کہ 800 ڈالرز کے فون تیار کریں جن کو خریدنے والوں کی تعداد محدود ہو۔